طالبان کے حملوں میں 10 افغان پولیس اہلکار ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
شمالی افغانستان میں حکام کے مطابق طالبان کے پولیس کی چوکیوں پر حملوں میں کم از کم دس پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق ہلمند صوبے میں کیے جانے والے ان حملوں میں بڑی تعداد میں طالبان جنگجو ملوث تھے اور کچھ علاقوں میں کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ابھی بھی سرکاری فورسز اور طالبان میں جھڑپیں جاری ہیں۔
واضع رہے کہ افغانستان میں عسکریت پسند باقاعدگی سے پولیس چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں کیونکے اکثر چوکیوں پر عملے کی کمی کی وجہ سے سکیورٹی کے غیر تسلی بخش انتظامات ہوتے ہیں۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے ضلع سنگین میں متعدد پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
صوبائی پولیس کے سربراہ نبی جان ملاخیل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایاہے کہ ’حملوں میں پانچ پولیس افسر ہلاک اور چھ زحمی ہوئے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ لڑائی میں طالبان کا بھی جانی نقصان ہوا ہے اور پولیس کی مزید نفری بھی علاقے میں بھیج دی گئی ہے۔
صوبے میں محکمۂ صحت کے سربراہ عنایت اللہ غفاری کا کہنا ہے کہ رات کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد لشکرگاہ کے ہسپتال میں پانچ پولیس افسران کی لاشیں اور آٹھ زخمی اہلکاروں کو لایا گیا۔
دوسری جانب طالبان نے اپنی ویب سائٹ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم طالبان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ عسکریت پسندوں نے موسم بہار کی پہلی جنگی کارروائی کا آغاز کیا تھا اور حالیہ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ افغان افواج غیر ملکی زمینی دستوں کی مدد کے بغیر طالبان سے برسرپیکار رہے ہیں۔
یاد رہے کہ نیٹو نے گذشتہ برس دسمبر میں افغانستان میں اپنا فوجی مشن باقاعدہ طور پر ختم کر دیا تھا لیکن مقامی افواج کو تربیت دینے کے لیے محدود تعداد میں اب بھی غیر ملکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔







