افغانستان: بدخشاں میں حکومتی افواج اور طالبان میں شدید لڑائی

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان کے شمالی صوبوں بدخشاں اور قندوز میں حکومتی سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
حکومتی افواج نے قندوز میں واقع چاردرہ کا علاقہ طالبان کے قبصے سے چھڑوانے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے۔
چاردرہ کا علاقے سے دارالحکومت کابل جانے والی سڑک گزرتی ہے اس لیے یہ علاقہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
طالبان کی ویب سائٹ پر جنگجوؤں کو علاقے میں واقع پولیس کی چیک پوسٹ پر گھومتے پھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اُس نے بدخشاں صوبے کے ایک اور علاقے یمگان کو طالبان کے قبضے سے واپس لے لیا ہے۔
صوبہ بدخشاں کے پولیس کمانڈر جنرل بابا جان نے بی بی سی کو بتایا کہ شدید لڑائی کے بعد حکومتی سکیورٹی فورسز نے یمگان کے ضلع پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
’ہماری فوری فورسز نے یمگان ضلع سے طالبان کا خاتمہ کر دیا ہے اور اب ضلع کے مرکز میں سرکاری فورسز موجود ہیں۔ اس کارروائی میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔‘
جنرل بابا جان کے مطابق اس لڑائی میں سو سے زیادہ طالبان مارے گئے ہیں اور مرنے والوں میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق چاردرے کے مقامی افسر محمد یوسف ایوبی کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں کی لڑائی کے بعد چاردرے کا ڈسٹرکٹ بھی طالبان کے قبضے سے چھڑا لیا گیا ہے اور اس لڑائی میں12 فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور 17 زخمی ہیں۔
گذشتہ مہینے اس علاقے میں طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افراد نقل مکانی کر گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ علاقے میں طالبان کے علاوہ کئی غیر ملکی جنگجو بھی موجود ہیں جو مبینہ طور پر دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
افغانستان میں اتحادی افواج کے انخلا کے بعد سے شدت پسندوں کی جانب سے پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔







