افغان رہنماؤں کو امن کے لیے جنگ کا سامنا

رواں ہفتے افغان پارلیمان پر ہونے والے حملے بعد ایک بار پھر امیدیں معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنرواں ہفتے افغان پارلیمان پر ہونے والے حملے بعد ایک بار پھر امیدیں معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں
    • مصنف, لیس ڈوسٹ
    • عہدہ, بین الاقوامی نامہ نگار، بی بی سی

کیا افغانستان میں آنے والے دنوں میں تشدد بڑھتا جائے گا یا کوئی تاریخی معاہدہ طے پا سکے گا؟

اس سال میدان جنگ میں طالبان کو کئی اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں، اور غیر رسمی مذاکرات کے دور بھی دیکھے گئے۔

کچھ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ کئی برسوں سے جاری حملوں کے بعد اس سال طالبان اور حکومت کے درمیان رسمی مذاکرات کا بہترین موقع ہے۔

لیکن رواں ہفتے افغان پارلیمان پر ہونے والے حملے کے بعد ایک بار پھر امیدیں معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔

پارلیمنٹ پر اس موقعے پر حملہ کیا گیا جب افغان ارکان پارلیمان ماہ رمضان میں نئے وزیردفاع کے انتخاب کی منظوری کے لیے جمع تھے۔

یہ ایک افسوس ناک اتفاق ہے کہ وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے والے معصوم ستانکزئی کو امن مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ایک بار منتخب کیا گیا تھا۔ وہ سنہ 2011 میں سابق صدر برہان الدین ربانی پر ہونے والے جان لیوا خودکش حملے میں بال بال بچے تھے۔

اس رات امن مذاکرات کے لیے کابل آنے والے طالبان ایلچی کی پگڑی میں ایک خوفناک پیغام چھپا ہوا تھا۔

دوست اور دشمن میں فرق کرنے کا عمل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح طالبان کے بڑھتے ہوئے چیلنج کے ساتھ نمٹنا بھی آسان نہیں ہے۔

رکن پارلیمان شکریہ برکزئی نے بی بی سی کو بتایا: ’اس حملے کا مطلب ہے کہ وہ ایک ہاتھ بھائی کی طرح ملا رہے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہم ان پر بھروسہ کرتے ہیں، وہ ہم پر ہیں۔‘

’مجھے افسوس ہے، مجھے بہت افسوس ہے۔‘

اس سال افغانستان میں موسم سرما کی برف پگھلنے کے بعد روایتی ’لڑائی کا موسم‘ خاصا شدید رہا ہے

،تصویر کا ذریعہbbc

،تصویر کا کیپشناس سال افغانستان میں موسم سرما کی برف پگھلنے کے بعد روایتی ’لڑائی کا موسم‘ خاصا شدید رہا ہے

چند ہفتے قبل انھوں نے اوسلو میں افغان خواتین کے وفد کی قطر میں طالبان کے دفتر کے نمائندوں سے ملاقات میں شرکت کی تھی۔

ایک ہفتہ قبل ناروے میں سالانہ میڈی ایٹرز فورم میں طالبان کے متعدد نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ اس اجتماع میں افغان حکومت اور سول سوسائٹی کے کئی سینیئر ممبران نے بھی شرکت کی تھی۔

اس سال افغانستان میں موسم سرما کی برف پگھلنے کے بعد روایتی ’لڑائی کا موسم‘ خاصا شدید اور واضح رہا ہے۔

پارلیمنٹ پر ہونے والا حملے میں ایک خاتون اور ایک بچے کی جان گئی اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ دیگر علاقوں میں حملوں کے دوران کیا گیا۔ اس سال طالبان نے کئی اہم محاذوں پر پیش قدمی کی ہے جس میں شمال میں صوبہ قندوز اور جنوب میں ہلمند صوبہ شامل ہیں۔

گذشتہ چھ ماہ میں طالبان کے نمائندے قطر، دبئی، اوسلو اور چین کے شہروں میں افغان حکام، افغان خواتین، مغربی سفارت کاروں اور امداد دہندگان کے ساتھ بیٹھے ہیں، جہاں انھوں نے ایک ساتھ چائے پی اور کھانا کھایا۔

افغان اور مغربی ذرائع بشمول طالبان تمام ایک ہی کہانی بیان کرتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں انھوں نے ماضی کے بارے میں بحث کی اور مستقبل کے بارے میں تفصیلی موقف پیش کیے۔

افغان مردوں کو روایتی انداز میں گلے ملتے اور استقبال کرتے دیکھا گیا۔ طالبان کی جانب سے خواتین کی شمولیت کے حوالے سے کوششوں کو بھی دیکھا گیا جن میں خواتین کے ملازمت کرنے کے حق، تعلیم حاصل کرنے اور سیاست میں شمولیت کو اسلامی قوانین کے مطابق بیان کیا گیا۔

ان ملاقاتوں کے بارے میں معلومات رکھنے والی ایک افغان خاتون سرگرم رکن کا کہنا تھا: ’وہ شاید اپنی ساکھ بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے کہ وہ حکومت کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

چند ہفتے قبل اوسلو میں افغان خواتین کے وفد کی طالبان نمائندگان سے ملاقات ہوئی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنچند ہفتے قبل اوسلو میں افغان خواتین کے وفد کی طالبان نمائندگان سے ملاقات ہوئی

لیکن اس عمل میں ایک اہم عنصر اب بھی موجود نہیں ہے۔ خطے میں کام کرنے والے ایک مغربی سفارت کار کہتے ہیں: ’گذشتہ چھ ماہ ہونے والی ملاقاتیں نہایت اہم رہی ہیں لیکن ملاقات کا ہر دور وہی غیرسرکاری رہا ہے۔ اب اگلے قدم کی ضرورت ہے۔‘

’اگلا قدم‘ دونوں جانب سے باضابطہ نمائندگان کی آمنے سامنے ملاقات ہوسکتا ہے۔

تاحال کوئی رسمی ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ طالبان کے بارے میں کوئی پالیسی نہیں کہ افغانستان کی قانونی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مذاکرت کریں۔ طالبان کے نمائندے سابق صدر حامد کرزئی کے دور کے مقابلے میں اب ’کٹھ پتلی حکومت‘ کی اصطلاح کا استعمال نہیں کرتے۔

گذشتہ ہفتے جب ’میڈی ایٹرز فورم‘ کے دوران مذاکرات کی خبریں سامنے آئی تھیں تو اسلامی امارات افغانستان کی ویب سائٹ پر یہ بیان جاری کیا گیا تھا کہ یہ ’دعویٰ نہ ہی درست ہے اور نہ ہی کانفرنس اس مقصد کے لیے منعقد کی جارہی ہے۔‘

یہاں تک کہ اگر طالبان میں قدم بڑھانا بھی چاہتے ہیں تو یہ عمل کیسے انجام تک پہنچے گا؟

اس تحریک کا دارومدار طالبان امیر ملا عمر سے تابعداری پر ہے۔ لیکن انھیں سنہ 2001 کے بعد نہیں دیکھا گیا اور ان کی عدم موجودگی کے بارے میں بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

صدر اشرف غنی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں تاحال ناکام رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہARG

،تصویر کا کیپشنصدر اشرف غنی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں تاحال ناکام رہے ہیں

کئی سال قبل قطر طالبان کے سیاسی دفتر میں ان کے سابق ذاتی سیکریٹری کی سربراہی میں سید طیب آغا نے مذاکرات کے لیے ان کی حمایت حاصل ہونے کا ذکر کیا تھا لیکن صرف امریکی سفارت کاروں کے ساتھ۔ اس کے بعد صدر حامد کرزئی کے احتجاج کے بعد قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر بند کر دیا گیا تھا۔

کئی ماہ پہلے صدر اشرف غنی نے مجھے بتایا تھا کہ انھوں نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ وہ سابق صدر کے مقابلے میں مختلف انداز میں کام کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ کام کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جو ذرائع کے مطابق طالبان کے کسی بھی مذاکرت میں شامل ہونے کے بارے میں مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔

تاحال، پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس سروس، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے افغان طالبان کے ساتھ روابط ہیں، ابھی تک کوئی قابل اعتماد مذاکرات کار یا نیا مذاکراتی عمل پیش نہیں کر سکے۔

سابق صدر کرزئی کے دور میں پاکستان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل رہنے والے ایک افغان اہلکار کا کہنا ہے: ’یہ اس نہج پر پہنچ رہے ہیں جہاں کابل کو یہ کہنا پڑے گا کہ پاکستان کے ساتھ ان کی نئی پالیسی کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔‘

غیررسمی ملاقاتوں اور شدید لڑائی میں تیزی طالبان اور افغان حکومت دونوں کے لیے اہم ہے۔

طالبان کو دولت اسلامیہ کی صورت میں ایک نئے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔

طالبان میں بھی مذاکرات کے حوالے سے تقسیم پائی جاتی ہے، لیکن اس سے لڑائی میں کمی واقع نہیں ہوئی۔

طالبان کو دولت اسلامیہ کی صورت میں ایک نئے چیلنج کا بھی سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY

،تصویر کا کیپشنطالبان کو دولت اسلامیہ کی صورت میں ایک نئے چیلنج کا بھی سامنا ہے

کابل میں ایک فلاحی اہلکار کا کہنا ہے: ’اس سال میدان جنگ میں بہت زیادہ جنگجو بھیجے جار ہے ہیں جن میں پاکستان کے قبائلی علاقوں سے بھاگنے والے غیرملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔ کچھ طالبان کمانڈروں کا خیال ہے کہ یہ صرف وقت کی بات ہے اور جلد ہی کابل حکومت گر جائے گی۔‘

کابل میں ’قومی اتحاد‘ پر مشتمل حکومت اقتدار میں آنے کے دس ماہ بعد بھی مل کر کام کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے میڈی ایٹرز فورم میں افغانستان نے کولمبین صدر کو یہ کہتے سنا کہ کولمبیا کی تاریخ کا سب سے پرتشدد سال بھی امن مذاکرات کی بات کرنے کے حوالے سے سب سے اہم تھا۔

افغانستان نے تاحال کسی سال کے ’انتہائی اہم‘ ہونے کا اعلان نہیں کیا۔ تاہم آدھا سال گزرنے کے بعد کوئی بھی اس بارے میں پراعتماد نہیں کہ ’امن کے لیے جنگ‘ جاری رہے گی۔