کابل میں ہسپانوی سفارتخانے کے قریب حملہ

کابل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسپین کے سفارتخانے پر حملے سے پہلے ایک کار بم دھماکے ہوا

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے طالبان شدت پسندوں نے ہسپانوی سفارت خانے کے قریب ایک غیرملکی گیسٹ ہاؤس کو نشانہ بنایا ہے جس سے متعدد افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔

ابتدائی طور پر ہسپانوی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات تھیں تاہم سپین کے وزیراعظم نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم کے مطابق اس حملے میں ایک ہسپانوی پولیس اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے۔

طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجو شیرپور کے علاقے میں کار بم دھماکہ کرنے کے بعد ایک عمارت میں داخل ہوگئے ہیں۔

نزدیکی ہسپتال میں کئی زخمیوں کو لایا جا چکا ہے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق شدید لڑائی جاری ہے۔

یہ طالبان کی طرف سے اہم افغان مقامات پر حملوں کے سلسلے کی ایک تازہ کڑی ہے۔ منگل کو طالبان نے قندھار ایئرپورٹ پر حملہ کر دیا تھا جس میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

افغان سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد سات ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان اور سپین کے سکیورٹی اہلکار دونوں موقعے پر موجود ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق افغانستان اور سپین کے سکیورٹی اہلکار دونوں موقعے پر موجود ہیں

ابتدائی طور پر سپین کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ کابل میں واقع ان کے سفارتخانے پر حملہ ہوا ہے تاہم سپین کے وزیراعظم ماریانو راجوئے نے ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں ہسپانوی سفارت خانے پر حملہ نہیں ہوا اور نہ ہی حملے کی کوشش ہوئی۔

وزیراعظم ماریانو راجوئے کے مطابق حملہ ہسپانوی سفارت خانے کے بہت قریب واقع گیسٹ ہاؤسوں پر کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعہ کی شام انھوں نے ایک بڑے دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں آئیں۔

کابل پولیس کے سربراہ عبد الرحمان رحیمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت صرف اس بات کر تصدیق کر سکتا ہوں کہ شیرپور کے علاقے میں کار کے ذریعے خود کش حملہ ہوا ہے۔

افغان پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے عمارت کے احاطے میں کھڑی کئی بکتربند گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنافغان پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے عمارت کے احاطے میں کھڑی کئی بکتربند گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے

کابل میں موجود صحافی بلال سروری کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملے کے بعد دو ہسپانوی سفارتکاروں کو عمارت سے نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔

بلال سروری کے بقول انھوں نے غم سے نڈھال ایک سفارتکار کو عمارت سے نکلنے کے بعد ایک کار کے ساتھ اپنا سر مارتے ہوئے دیکھا ہے۔

افغان پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے عمارت کے احاطے میں کھڑی کئی بکتربند گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے۔

ایک پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے سے دو عمارتوں کو آگ لگ گئی ہے۔

اہلکار کے بقول ’یہ ممکن ہے کہ حملہ آور ابھی عمارت کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ ہم نے تمام گلیاں بند کر دی ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔