کالا دھن دوسرے ملکوں میں، مزے انڈیا میں

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
جمعے کو اٹلی کی ایک عدالت نے ملک کی ایک سرکردہ دفاعی اور فضائی کمپنی ’ فن میکینیکا '‘ کے سابق سربراہ کو بد عنوانی کے جرم میں ساڑھے چار برس اور مشہور ہیلی کاپٹر آگوسٹا ویسٹ لینڈ بنانے والی اس کی ذیلی کمپنی کے سی ای او کو چار برس کی قید کی سزا سنائی۔
فن میکینیکا نے بھارتی فضائیہ کےساتھ صدراور وزیر اعظم کےاستعمال کے لیے 36 ارب روپے کی مالیت کے آگوسٹا ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ سودے کےبعد اطالوی تفتیش کاروں کو پتہ چلا کہ یہ سودا حاصل کرنے کےلیےکمپنی کے اعلیٰ اہلکاروں نے بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں اور کمشین ایجنٹوں کوتقریباً ساڑھےچار سو کروڑ روپے کی رشوت دی تھی۔
جن بھارتی اہلکاروں کو رشوت دی گئی تھی ان کےنام سامنے آئے اور اٹلی میں گرفتاریوں اور مقدمہ درج ہونے کے بعد بھارت نے 2014 میں یہ سودا منسوح کردیا۔
اٹلی میں ملک کی سرکردہ دفاعی کمپنی کے سربراہوں پرمقدمہ چلا اور انھیں سزا بھی دے دی گئی ۔ اور یہاں بھارت میں ابھی تفتیش جاری ہے۔
اٹلی میں رشوت دہی کا انکشاف ہونے اور رشوت خوروں کی تفصیلات سامنےآنے کے بعد بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے فضائیہ کےایک سابق سربراہ اور بعض دفاعی ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ۔
دو برس سے یہ تفتیش ابھی تک چل رہی اورمعلوم نہیں ہے یہ کس مرحلےمیں ہے۔ رشوت دینے والوں کو تو سزا ہو چکی ہے لیکن رشوت لینےوالوں کا ابھی تک کچھ نہیں بگڑا۔
بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت 2014 میں جب اقتدارمیں آئی تو اس نےوعدہ کیا تھا کہ وہ ملک سےبدعنوانی اکھاڑ پھینکےگی ۔ بی جے پی نےاقتدار میں آنے سے پہلے کانگریس اور بالخصوص اس کے ایک رہنما سریش کلماڈی پر کامن ویلتھ گیمزمیں 30 ہزارکروڑ روپے کے گھپلے کا الزام عائد کیا تھا ۔
کلماڈی کے خلاف کیا مقدمہ چلا اور 30 ہزار کروڑروپے کا کیا ہوا ۔انھیں کسی معاملے میں سزا ہوئی یا نہیں؟ آج ان کے بارے میں کوئی بات بھی نہیں کرتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سابقہ کانگریس حکومت پر پرٹیلیکام کے ٹو جی سپیکٹرم کی فروخت میں 60 ارب ڈالر کے گھپلے الزام لگایا گیا تھا ۔ میڈیا اور بی جے پی نے زبردست واویلا مچایا تھا ۔اقتدار میں آنے کے بعد آج اس کے بارے میں کوئی ذکر بھی نہیں ہوتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ غیر ممالک میں جمع بقول ان کے پانچ سو ارب ڈالر سے زیادہ کا کالا دھن ملک واپس لائیں گے۔ آج اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کی حکومت کو طعنے دے رہی ہیں کہ اس کے کالے دھن کی واپسی کے وعدے کا کیا ہوا۔
پچھلے دنوں جب ’پاناما پیپرز‘ لیک ہوئے تو اس میں بھی کئی سو بھارتی امیروں اور سرکردہ شخصیات کےنام سامنے آئے جنھوں نے غیر ممالک میں اپنی کمپنیاں رجسٹر کر رکھی ہیں۔ پانامہ لیکس کے بعد آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو مستعفیٰ ہونا پڑا ۔
برطانیہ کےوزیر اعظم ڈیود کیمرون پر بھی مستعفیٰ ہونےکے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مستعفیٰ ہونے کے امکانات کم ہیں لیکن ان کی سیاسی ساکھ اور ان کی انفرادی حیثیت ضرور متاثر ہوگی۔
لیکن یہاں انڈیا میں جن لوگوں کےنام آئے ہیں یا تو وہ خاموش ہیں یا پھر وہ کسی کمپنی کا ڈائریکٹر ہونے یا کسی کمپنی کو جاننے سےانکار کر رہے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق بھارت کا شمار دنیا کے ان اولین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں بدعنوانی بہت زیادہ ہے۔ یہ بھی تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ غیر ممالک میں بے ایمانی کی ایک بڑی دولت خفیہ کھاتوں میں جمع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہےکہ ملک میں ٹیکس کا پیچیدہ نظام ، ٹیکس کی اونچی شرح ، سرکاری نیلامیوں اور لین دین میں شفافیت کی کمی، بدعنوان اہلکاروں کو سزائیں نہ ملنا اور اس طرح کے بہت سےدوسرے عوامل بھارت میں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئے بدعنوانی کے ذمے دار ہیں۔
سیاسی جماعتون نے بدعنوانی ختم کرنے کے لیے نعروں اور وعدوں کے باوجود بدعنوانی کے خلاف ابھی تک کوئی جامع اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ بدعنواونی کے معاملے میں رفتہ رفتہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی نظام سے عوام کا اعتبار اٹھنے لگا ہے۔







