مذہب پر منفی جذبات کا حق ہونا چاہیے؟

اگر کسی فرد کے کسی مذہب کے بارے میں منفی جذبات ہیں تو کیا اسے اس کے اظہار کا حق نہیں ہونا چاہیئے ؟

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر کسی فرد کے کسی مذہب کے بارے میں منفی جذبات ہیں تو کیا اسے اس کے اظہار کا حق نہیں ہونا چاہیئے ؟
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت میں پنجاب کی ریاستی اسمبلی ایک بل پر غور کر رہی ہے جس کے تحت سکھوں کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کرنے والے کو عمر قید تک کی سزا دینے کی تجویز ہے۔

بھارت میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مذاہب اور دیوی، دیوتاؤں اور پیغمبروں وغیرہ کی توہین کے لیے قوانین موجود ہیں۔ پھر آخر اس طرح کے اضافی قانون کی ضرورت کیوں پڑی ؟

پنجاب میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور ریاست میں حکمراں اکالی دل طویل اقتدار کے بعد شکست کا خطرہ محسوس کررہی ہے۔

برصغیر میں سیاسی جماعتیں مذہب اور مذہبی جذبات کا استعمال عموماً اقتدار میں آنے کے لیے یا اقتدار میں برقرار رہنے کے لیے کیا کرتی ہیں۔

کچھ دنوں پہلے اتر پردیش میں ایک سخت گیر ہندو جماعت کے ایک مقامی رہنما نے ایک مسلم لیڈر کے بیان کے جواب میں اسلام کے پیغمبر کے بارے میں کچھ اہانت آمیز باتیں کہیں۔

اگرچہ یہ چھوٹے سے قصبے میں ایک مقامی کارکن کا بیان تھا لیکن سوشل میڈیا کےاس دور میں فتنہ پیدا کرنے والوں کو بہترین موقع مل گیا۔

ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہونے لگے۔ جمعہ کی نماز کے بعد خصوصی احتجاج کا انتظام کیا گیا۔ پیغمبرکے خلاف اہانت آمیز باتیں کہنے والے کو پھانسی دینے کا مطالبہ ہونے لگا۔

سوشل میڈیا کے انقلاب سے بھارت میں مذہبی سختگیریت کے اظہار میں کافی شدت آئی ہے

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشنسوشل میڈیا کے انقلاب سے بھارت میں مذہبی سختگیریت کے اظہار میں کافی شدت آئی ہے

بات اس حد تک بڑھی کہ فسادیوں نے متنازع بیان کے ایک مہینے بعد مغربی بنگال کے مالدہ ضلع میں ایسی غارت گری مچائی کہ مقامی لوگ ابھی تک حیران ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا۔ بلوائیوں نے کئی مکان نذر آتش کر دیے، پولیس سٹیشن جلا ڈالا، کئی لوگوں پر حملہ بھی کیا گیا۔

چند برس قبل حیدر آباد کی ایک مقامی سیاسی جماعت اتحاد المسلیمین کے ایک مقامی رکن اسمبلی نے ایک ریلی سے خطاب میں ہندو مذہب اور ہندو دیوی، دیوتاؤں کا مذاق اڑایا تھا۔

یہ تقریر سوشل میڈیا پر موجود ہے اور اسے دونوں جانب کے سخت گیر ایک دوسرے کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔

حکمراں جماعت کے کئی رہنما سادھو، مسلمانوں، عیسائیوں اور ان کے مذاہب کے بارے میں وقتاً فوقتاً نفرت آمیز بیانات دے کر ملک کی فضا کوگرم رکھے ہوئے ہیں۔

بھارت میں سخت گیر مذہبی تنظیمیں اور مذہب مائل سیاسی جماعتیں لبرل، جمہوری، غیرجانبدار اور سیکیولر تحرریروں، فن پاروں، تجزیوں، پینٹینگز، فلمز اور مضامین کو اکثر یہ کہ کر نشانہ بناتی ہیں کہ ان سے ان کے مذہبی جزبات مجروح ہوئے ہیں۔

اکثر ان پر پابندی لگانے اور معافی مانگنے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ بھارت کے معاشرے میں یہ بہت کثرت سے ہونے لگا ہے۔

سوشل میڈیا کے انقلاب سے بھارت میں مذہبی سختگیریت کے اظہار میں کافی شدت آئی ہے۔ سوشل میڈیا مذہبی نفرت کے اظہار کے لیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔

خواہ وہ کوئی دور دراز کا گاؤں ہو یا دلی و ممبئی جیسے بڑے شہر، آج ہر کوئی اپنے گھر میں بیٹھا ہوا اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کر سکتا ہے۔ جمہوریت کا یہ ایک مثبت پہلو ہے۔

حکمراں جماعت کے کئی رہنما سادھو، مسلمانوں، عیسائیوں اور ان کے مذاہب کے بارے میں وقتاً فوقتاً نفرت آمیز بیانات دے کر ملک کی فضا کوگرم رکھے ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

،تصویر کا کیپشنحکمراں جماعت کے کئی رہنما سادھو، مسلمانوں، عیسائیوں اور ان کے مذاہب کے بارے میں وقتاً فوقتاً نفرت آمیز بیانات دے کر ملک کی فضا کوگرم رکھے ہوئے ہیں

سوشل میڈیا نے آج کمزور سےکمزور شہری کو بھی اپنے انفرادی جذبات کے اظہار کی طاقت بخشی ہے۔ اگر بہت سے لوگوں کے دلوں میں دوسروں کے مذاہب کے بارے میں منفی جذبات ہیں تو انھیں اس کے اظہار کا بھی حق ہونا چاہیئے۔

تنقید، تضحیک اور تجزیے صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں زندگی کے ہر پہلو پر سوال اٹھتے ہیں اور تنقید و ستائش ہوتی ہے۔ مذاہب اور مذہبی کرداروں کو کیا اس سے الگ کیا جا سکتا ہے؟

کیا ان پر تنقید نہیں ہو سکتی، اگر کسی فرد کے کسی مذہب کے بارے میں منفی جذبات ہیں تو کیا اسے اس کے اظہار کا حق نہیں ہونا چاہیئے ؟ اگر ہر مذہب خود کو دنیا کا سب سے بہتر فلسفۂ حیات ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو کیا شہریوں کو اس تصور کو مسترد کرنے، اس کی تنقید کرنے اور اس پرطنز کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیئے؟

تمام جمہوری معاشروں، بالخصوص بھارت جیسے کثیر المذہب اور سیکیولر معاشروں میں شہریوں کو مذہبی نفرت کی گھٹن سے نکالنے کے لیے اظہار کی آزادی کے دائرے کواب وسعت دینے کی ضرورت ہے۔