دہلی میں آٹو رکشہ کی ٹیکسی پر جیت

یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے تجویز پیش کی کہ شہر میں آج کل اوبر اور اولا نامی ٹیکسی سروسز کافی مقبول ہورہی ہیں دوسری طرف دہلی کا روایتی آٹو رکشہ ہے جو ان سے کم تر سمجھا جاتا ہے لیکن اپنی بعض خوبیوں کے سبب ان کے سامنے ڈٹا ہوا ہے تو کیوں نہ ان جدید ٹیکسی سروسز کا موازنہ اس پرانے آٹو رکشہ سے کیا جائے۔
چنانچہ پاپ اپ کے سربراہ میٹ ڈینزیکو ایک اوبر ٹیکسی میں سوار ہوئے اور دہلی آفس میں پروڈیوسر وکاس پانڈے ایک آٹو رکشہ، جسے ٹک ٹک بھی کہا جاتا ہے، میں سوار ہوکر ایک ہی وقت قرول باغ کی ایک دکان پر جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کون پہلے پہنچتا ہے اور دونوں کو کیا تجربات حاصل ہوتے ہیں۔
میٹ ڈینزیکو کے مطابق دہلی میں آتے ہی جو چیز انہیں سب سے پہلے محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ شہر کا ٹریفک بہت ہی بے نظم، شور شرابے والا، آلودہ اور بدبودار ہے۔
میٹ کے مطابق ٹک ٹک کے مقابلے میں کار کی رفتار تو بہت تیز ہے اور وہ اکثر ٹک ٹک سے آگے رہتی ہے لیکن یہ اس وقت تک کے لیے جب تک روڈ پر ٹریفک کم ہے۔ بھیڑ آتے ہی کار پھنس جاتی ہے اور ٹک ٹک پھر بھی آگے نکل جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہbbc
وکاس اور ڈینزیکو نے راستے میں اپنے سفر کے دوران دوسرے لوگوں سے دہلی کے تبدیل ہوتے ٹریفک کے متعلق بات چیت کی۔
ایک شخص مکیش کا کہنا تھا کہ دلی میں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے اور چونکہ آٹو رکشہ کھلا ہوتا ہے اس لیے وہ اس میں سواری کرتے وقت ہمیشہ منہ پر ایک رومال باندھ لیتے ہیں اور اس کے لیے ہمیشہ وہ اپنی جیب میں ایک رومال رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مصروف اوقات میں دلی کا ٹریفک کسی جہنم سے کم نہیں ہے اور سڑک پر بد نظمی کا عالم یہ ہے کہ اکثر راستے میں لوگوں کو غصہ کرتے، لڑتے اور مار پیٹ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔‘
ایک نوجوان لڑکی تانیہ بھی مکیش سے متفق ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ آٹو رکشہ سے سفر قدر آسان ہے کیونکہ وہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہیں اس لیے ان سے بڑی آسانی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ٹک ٹک کے پرانے ڈرائیور دلی میں کسی بھی جگہ کسی بھی کونے میں بغیر نقشے کے لے جا سکتے ہیں جبکہ اوبر یا اولا کے ڈرائیور اکثر راستے میں پھنس جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
مکیش کے مطابق شہر کا نقشہ آٹو رکشہ ڈرائیور کے ذہنوں میں نقش ہوتا ہے تو جی پی ایس نے کچھ اچھا تو کیا ہے لیکن دلی شہر کی گلی گلی کا احاطہ کرنا شاید ان کے بس کی بات نہیں ہے۔
تانیہ کہتی ہیں کہ ’آٹو والے ہر جگہ باہر کھڑے مل جاتے ہیں بس آؤ بیٹھو اور چل دو جبکہ کار کے لیے پہلے لاگ ان کر، پھر ساری تفصیل ٹائپ کرو پھر وہ آنے کے بعد آپ کو اطلاع دیں، پھر جاؤ بیبٹھو اور پھر کار کا دروازہ بند کرو۔ اس کے برعکس آٹو میں تو دروازہ بھی نہیں بند کرنا ہوتا ہے، بس بیٹھے اور چل دیا۔‘
اس تمام بات چیت کے دوران ہی وکاس پانڈے کے آٹو رکشہ کا ڈرائیور بھیڑ بھاڑ والے علاقے سے بھی اپنا آٹو آگے نکال لے جاتا ہے اور پھر ایک قدر تنگ راستے سے اپنی منزل کی طرف نکل جاتا ہے جبکہ کار پھنسی رہتی ہے۔ کبھی بھیڑ میں کبھی ٹریفک کی ریڈ لائٹ پر۔
اوبر سروس کا ڈرائیور جی پی ایس کے نقشے پر بھی منحصر ہے جبکہ آٹو رکشہ کا روایتی ڈرائیور ایک ایک گلی سے واقف ہے اور اسی لیے وہ قرول باغ کی اپنی منزل پر بغیر کسی سے راستہ پوچھے ہی پہلے پہنچتا ہے جبکہ ٹیکسی ڈرائیور ابھی راستے میں کسی اجنبی سے راستہ پونچھ رہا ہوتا ہے۔
اس طرح جیت ٹک ٹک کی ہوتی ہے اور آخر میں اوبر اور ٹک ٹک کے ڈرائیور کے درمیان کی گفتگو بڑی دلچسپ ہے۔ کار کا ڈرائیور کہتا ہے کہ اسے تمام ٹریفک اصولوں کی پابندی کرنی پڑتی ہے جبکہ آٹو والا اس سے بے پرواہ ہوتا ہے۔







