اوبر کی بھارتی ٹیکسی سروس ’اولا‘ کے خلاف عدالتی چارہ جوئی

اوبر کا کہنا ہے کہ چار لاکھ سے بھی زیادہ جعلی بکنگ کے لیے انہیں جعلی اکاؤنٹز کا استعمال کیا گيا اور پھر بعد میں بکنگ کو منسوخ کر دیا جاتا

،تصویر کا ذریعہAFP I Getty

،تصویر کا کیپشناوبر کا کہنا ہے کہ چار لاکھ سے بھی زیادہ جعلی بکنگ کے لیے انہیں جعلی اکاؤنٹز کا استعمال کیا گيا اور پھر بعد میں بکنگ کو منسوخ کر دیا جاتا

ٹیکسی سروس کے لیے معروف امریکی کمپنی اوبر نے جعلی اکاؤنٹس بنانے پر بھارت میں اپنی حریف اولا کمپنی کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے مقدمہ دائر کیا ہے۔

اوبر کا دعویٰ ہے کہ اولا نے اس کے کاروبار میں مداخلت اور اس کے ڈرائیوروں کو پریشان کرنے کے لیے تقریباً 90,000 جعلی اکاؤنٹ بنائے۔

امریکی کمپنی اوبر کا کہنا ہے کہ چار لاکھ سے بھی زیادہ جعلی بکنگ کے لیے انھیں جعلی اکاؤنٹس کا استعمال کیا گيا اور پھر بعد میں بکنگ کو منسوخ کر دیا جاتا۔

اوبر نے نئی دہلی کی ہائی کورٹ میں اولا کے خلاف کیس درج کیا ہے اور عدالت سے نقصان کے حرجانے کے لیے تقریباً سات لاکھ 40 ہزار ڈالر کی استدعا کی ہے۔

لیکن اولا نے ان الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے انھیں مسترد کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہماری سمجھ سے یہ باہر نہیں ہے کہ یہ بازار کی موجودہ حقائق سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے جس میں اوبر کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘

اوبر نے اس موقع پر قانونی چارہ جوئی کے علاوہ اس معاملے میں مزید کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ اس کے لیے سماعت کی تاریخ 14 سمتبر مقرر کی گئی ہے۔

اوبر بھارت کے نقل و حمل کے بازار میں میں گذشتہ سات ماہ سے تقریباً ایک ارب ڈالر خرچ کر رہی ہے اسی وجہ سے بھارت کے نقل و حمل کے بازار میں حالیہ کچھ مہینوں میں مقابلہ سخت ہوگیا ہے۔

اولا کمپنی کو جاپان کے سافٹ بینک گروپ کی کی حمایت حاصل ہے جو ٹائیگر گلوبل مینیجمنٹ کو فنڈز فراہم کرتی ہے۔ اس گروپ کا اتحاد بازار میں اوبر کی اجارہ داری کم کرنا چاہتا ہے۔

اس تجارت میں سان فرانسسکو کی لفٹ، جنوب مشرقی ایشیا کی کمپنی گریب اور چین کی دیدی کوئیڈی جیسی کمپنیاں میدان میں ہیں۔