کشمیری پنڈتوں کو مسلمان ہمسائے یاد آتے ہیں

،تصویر کا ذریعہMajid Jahangir
- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
چند سال پہلے صحافی منوہر لال گامي دہلی میں کشمیری پنڈتوں کی ایک محفل میں تھے، جہاں گلوکار وجے ملا شاعر احسان قمری کے چند بند سنا رہے تھے۔
ہم سے مت پوچھیے ہم کدھر جائیں گے تھک گئے ہیں بہت، اپنے گھر جائیں گے
منوہر سمیت محفل میں موجود سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وجے ملا اب اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کی آواز آج بھی کشمیری پنڈتوں کے کانوں میں گونجتی ہے۔
کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیری پنڈتوں کے لیے ’گھر واپسی‘ ان کا سب سے حساس مسئلہ ہے اور شاید سب سے زیادہ دلچسپ بھی۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسند تحریک شروع ہونے کے بعد جنوری سنہ 1990 سے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی شروع ہوئی۔ چند سالوں کے اندر تین سے چار لاکھ پنڈت جموں، دہلی اور ملک کے دوسرے شہروں میں جا کر رہنے لگے۔
جو وادی چھوڑ کر نہیں گئے ان کی تعداد صرف 3,000 سے 5,000 بتائی جاتی ہے۔ آج 26 سال بعد کشمیری پنڈتوں کی بڑی اکثریت اپنے صوبے سے باہر رہتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہmajid jahangir
ان کی واپسی کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ زیادہ تر لوگ کشمیر میں اپنے پرانے گھر سستے داموں فروخت کر چکے ہیں۔ اب اگر وہ واپس آتے بھی ہیں تو اپنے آبائی گھروں کو نہیں لوٹ سکتے۔ جن گھروں میں کبھی وہ رہتے تھے، اب وہاں کشمیری مسلمان آباد ہیں۔
اب یہ گھر بہت مہنگے ہو چکے ہیں۔ سب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جموں آنے والے ونود پنڈت کولگام سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ’کشمیری پنڈتوں کو ضلعی ہیڈ کوارٹروں میں بسایا جائے۔‘
اپنی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ کولگام کے ہیں، تو انھیں کولگام میں ہی بسایا جائے۔ اگر انھیں کسی اور شہر میں بسایا گیا تو یہ انھیں قبول نہیں۔
یو پی اے حکومت کے دور میں وزیر اعظم پیکج کے تحت تقریباً 1,500 کشمیری پنڈت واپس ہوئے۔ انھیں سرکاری ملازمتیں دی گئیں۔ ان کے لیے گھر بنائے گئے، جسے سرینگر میں ’ٹرانزٹ کیمپ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سنہ 2014 میں ایک نئے پیکج کا اعلان کیا تھا لیکن کشمیری پنڈتوں کی اکثریت کسی بھی سرکاری سکیم سے مطمئن نہیں ہے۔

بعض کشمیری پنڈتوں کے مطابق، مرکزی حکومت ان کے لیے وادی میں الگ سے ایک سمارٹ سٹی بنا دے، جہاں ’کچھ لبرل مسلم بھی رہ سکتے ہیں۔‘
اس مشورے کو کشمیری مسلمان اور سیاسی رہنما پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
بہت سے کشمیری پنڈتوں کو بھی یہ مشورہ پسند نہیں۔ ایم کے پنڈتا کشمیر میں مندروں کی مرمت کرتے ہیں اور انھیں دوبارہ بسانے کے کام میں مصروف ہیں۔
ان کا خاندان جموں میں رہتا ہے لیکن وہ خود سرینگر میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سمارٹ سٹی سے وادی کے اندر ان کی علیحدگی قائم رہے گی۔
ان کا مشورہ قدرے مختلف ہے: ’کشمیر میں مندروں اور زیارت گاہوں کی بہت سی خالی زمینیں پڑی ہیں اگر ان پر کشمیری پنڈتوں کے لیے فلیٹس بنا دیے جائیں، تو ہزاروں لوگوں کو دوبارہ بسایا جا سکتا ہے۔‘
لیکن کشمیر سے باہر رہنے والے پنڈتوں کو سب سے پہلے سکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
مقامی مسلمان کہتے ہیں کہ اب ماحول پہلے سے بہت بہتر ہے۔ کولگام کے ایک چھوٹے سےگاؤں میں ایک زمانے میں 30 سے 35 کشمیری پنڈتوں کے گھر ہوا کرتے تھے اب صرف پانچ ہیں۔
ان کے مسلم پڑوسی عبد الغنی کہتے ہیں: ’کشمیری پنڈتوں کا یہ اپنا وطن ہے۔ اب یہاں سکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ کچھ لوگ اب بھی یہاں ہیں اور ٹھیک ہیں۔‘
عبد الغنی کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سے پنڈت ان کے گھر آتے ہیں اور چار پانچ دنوں تک رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ہماری دوریاں ختم ہو گئی ہیں۔‘
سرینگر کے ایک پرانے محلے کے ایک بڑے سے گھر میں سیف اللہ نام کے ایک شخص اپنے کنبے کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ ایک سابق شدت پسند ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ وہ پنڈتوں کو وادی سے نکالنے میں شامل تھے۔
لیکن جس گھر میں وہ آج آباد ہیں، وہ ایک کشمیری پنڈت کا ہے: ’یہ گھر میرے ایک کشمیری پنڈت دوست کا ہے۔ اللہ اس کا بھلا کرے۔ وہ مجھ سے کرایہ بھی نہیں لیتا۔‘
ان کے مطابق، ان کا مکان مالک دہلی میں رہتا ہے۔ انھوں نے میرے اس سوال کو فوری طور پر مسترد کر دیا کہ وہ قبضہ کر کے اس گھر میں رہے ہیں۔
میں نے کئی کشمیری پنڈتوں سے ان کی حفاظت کے مسئلے کے بارے میں پوچھا۔

وہ سبھی کہتے ہیں کہ وہ اب مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ کچھ مسلمان کہتے ہیں کہ پنڈتوں کا نوجوان طبقہ جو کشمیر سے باہر پیدا ہوا ان کا کشمیر سے زیادہ تعلق نہیں اور ان کے لیے گھر واپسی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
مصنف اور پولیس افسر منوج پنڈتا کہتے ہیں: ’وہ لوگ جو یہاں سے چلے گئے تھے وہ آج بہتر حالات میں ہیں۔‘
واپسی کے سوال پر وہ کہتے ہیں: ’کشمیری پنڈتوں کی عمر کا پروفائل دیکھیے۔ ایک وہ ہیں جو آج 60 سال سے زیادہ کے ہو چکے ہیں۔ وہ واپس آنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ یہاں رہے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو سنہ 60 اور 70 کی دہائی میں پیدا ہوئے جنھوں نے یہ (عسکریت پسندی) جھیلی، ان میں میں بھی شامل ہوں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں: ’ایک نسل سنہ 1990 کے بعد پیدا ہونے والی ہے۔ ہر ایک نسل کے اپنے مسائل ہیں اور ان کو اپنی امیدیں ہیں اور ساتھ میں ان کا اپنا ایک مقصد بھی ہے۔‘
منوہر لالگامي کہتے ہیں کہ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا سوال ہے: ’تو جتنے منہ اتنی باتیں۔ سب اپنا اپنا خیال رکھتے ہیں۔ کشمیری مسلم بھی اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ابھی تک اتفاق رائے نہیں ہے۔‘
منوہر کبھی سرینگر سے 11 کلومیٹر دور اپنے گاؤں میں رہتے تھے۔ اب وہ مرکزی حکومت کے تعمیر کردہ ٹرانزٹ کیمپ میں رہتے ہیں۔

وہ ایک اردو اخبار میں کام کرنے والے واحد ہندو ہیں۔ کہتے ہیں: ’ہم اب ٹرانزٹ کیمپ میں کشمیری پنڈتوں سے گھرے ضرور ہیں، لیکن پھر بھی خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔‘
وہ اپنے گاؤں میں مسلمانوں سے گھرے تھے، جنھیں اب بھی بہت ’مس‘ کرتے ہیں۔
منوج پنڈتا کہتے ہیں کہ حکومت پنڈتوں کو بسانے کی کوشش کرتی رہے گی لیکن آخر میں یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہی ہوگا اور یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔







