چین میں صدر کے 20 مخالفین قید

کہا جا رہا ہے کہ چین کے معروف صحافی اور کالم نگار جیا جیا کی قید کا تعلق بھی اسی خط سے ہے

،تصویر کا ذریعہApple Daily

،تصویر کا کیپشنکہا جا رہا ہے کہ چین کے معروف صحافی اور کالم نگار جیا جیا کی قید کا تعلق بھی اسی خط سے ہے

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ 20 لوگوں کو ایک نیم سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے خط کے سلسلے میں قید کر لیا گیا ہے جس میں چینی صدر شی جن پنگ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اس خط کو اس ماہ کے اوائل میں سرکاری ویب سائٹ ’ووجی‘ نیوز پر شائع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد خط کو فوری طور پر سائٹ سے ہٹا لیا گیا لیکن اس کا کیشڈ ورژن محفوظ رہا۔ اس خط میں، جسے کمیونسٹ پارٹی کے حامیوں سے منسوب کیا گیا ہے، صدر شی کے مختلف سیاسی، معاشی اور سفارتی فیصلوں پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔

ووجی سے اس خط کو ہٹانے کی بعد ویب سائٹ تھوڑی دیر کے لیے ناقابل رسائی رہی لیکن اب اس تک رسائی ممکن ہے۔ ووجی کے ایک ملازم کا کہنا تھا کہ دفتر کے بقیہ صحافی کسی نئی خبر پر نہیں کام کر رہے بلکہ ’شن ہوا‘ اور ’پیپلز ڈیلی‘ سے پرانی خبریں لے کر اپنی سائٹ پر چھاپ رہے ہیں۔

چین میں میڈیا کو سخت ضابطوں کے تحت رکھا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہiStock

،تصویر کا کیپشنچین میں میڈیا کو سخت ضابطوں کے تحت رکھا جاتا ہے

چین کے معروف صحافی اور کالم نگار جیا جیا، جو گذشتہ ہفتے لاپتہ ہوگئے تھے، کے وکیل نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ وہ بیجنگ پولیس کی حراست میں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کا قید کا تعلق ان کے اس خط میں ملوث ہونے سے ہے۔