’چینی صحافی جیا جیا بیجنگ پولیس کی حراست میں‘

،تصویر کا ذریعہApple Daily
چین کے معروف صحافی اور کالم نگار جیا جیا، جو گذشتہ ہفتے لاپتہ ہوگئے تھے، کے وکیل نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے وہ بیجنگ پولیس کی حراست میں ہیں۔
وکیل یان شن نے کہا ہے کہ پولیس نے انھیں بتایا ہے کہ گذشہ ہفتے جب جیا ہانگ کانگ جانے کے لیے فلائٹ پکڑنے جا رہے تھے تو بورڈنگ سے پہلے ہی انھیں ایئر پورٹ سے حراست میں لیا گیا تھا۔
مبینہ طور پر کالم نگار جیا کا تعلق ایک نیم سرکاری ویب سائٹ پر اس ماہ کے اوائل میں شائع ہونے والے اس خط سے ہوسکتا ہے جس میں چینی صدر شی جن پنگ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ خط فوری طور پر سائٹ سے ہٹا لیا گیا تھا۔
وکیل یان نے ’وی چیٹ‘ کے اپنے اکاؤنٹ پر لکھا کہ پولیس نے کہا ہے کہ مسٹر جیا پر بعض کیسز میں ملوث ہونے کا شبہہ ہے لیکن کیس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ان کے دوستوں نے میڈیا کو بتایا کہ انھیں لگتا ہے کہ مسٹر جیا نے اپنے ایک ایڈیٹر دوست، اویانگ ہونگلیانگ کو ان کی سائٹ ’واچنگ‘ پر خط شائع ہونے کے بعد خبردار کیا تھا جس کی وجہ سے ہی وہ لاپتہ ہوگئے۔
حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محقق ولیم نی نے بھی خبر رساں ادارے اے ایف کی بتایا ہے کہ انہیں بھی یہی لگتا ہے کہ مسٹر جیا کی گمشدگی کا تعلق ان کے اس خط میں ملوث ہونے سے ہوسکتا ہے۔
تنظیم نے لوگوں سے ان کی رہائی کے لیے حکومت سے اپیل کرنے کو کہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ AP
اس دوران ’واچنگ‘ سائٹ کے چیف ایگزکیٹیو مسٹر اویانگ کے بھی لا پتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ان کے کئی دوستوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ گذشتہ ایک ہفتے سے ان سے رابطہ نہیں کر پائے ہیں جبکہ خود بی بی سی کی ان سے رابطہ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔
گم شدگی کا یہ معاملہ ہانگ کانگ کے بعض پبلشرز کی گمشدگی کے بعد سامنے آیا ہے جن کے متعلق بعد میں پتہ چلا تھا کہ انہیں چین میں ہی خراست میں لیا گیا تھا۔
اس خط میں، جسے کمیونسٹ پارٹی کے حامیوں سے منسوب کیا گیا ہے، صدر زی پر مختلف سیاسی، معاشی اور سفارتی فیصلوں کے لیے لیے نکتہ چینی کی گئی ہے۔
اسے پہلے ایک بیرونی ویب سائٹ کینیو پر شائع کیا گیا جس کے بعد دوبارہ پانچ مارچ کو واچنگ سائٹ پر شائع کیا گیا۔ یرونی سائٹ وہ خط اب بھی آن لائن دستیاب ہے۔







