سینسرشپ کے خلاف چینی جریدے کی نافرمانی

دوسرا مضمون آن لائن پر کیچڈ ورزن پر دستیاب ہے
،تصویر کا کیپشندوسرا مضمون آن لائن پر کیچڈ ورزن پر دستیاب ہے

معروف چینی ميگزن کائیشن نے حکومت کے خلاف نظر آنے والی شاذ و نادر حکم عدولی کرتے ہوئے اپنے مواد کی سینسرشپ کے معاملے کو اجاگر کیا ہے۔

پیر کو اپنی انگریزی زبان کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں اس نے کہا ہے اظہار رائے کی آزادی کے متعلق ایک انٹرویو کو سینسر والوں نے ڈیلیٹ کر دیا ہے۔

جبکہ منگل کو دوسرا مضمون بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا جس میں پہلے مضمون کے ڈیلیٹ کیے جانےکے بارے میں بات کی گئی تھی۔

چین میں میڈیا کو سخت ضابطے کے تحت رکھا جاتا ہے اور حکومت کے سینسر کرنے والے عام طور پر ویب سائٹوں اور سماجی رابطے کی سائٹوں سے حکومت مخالف مواد کو ہٹا دیتے ہیں۔

کائیشن کا تازہ مضمون جو کہ اب صرف آن لائن کیچڈ ورژن پر موجود ہے اس میں یہ کہا گیا ہے کہ ’حکومت کے سینسر کرنے والے شعبے سائبر سپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا نے پانچ مارچ کو چینی زبان کی ان کی سائٹ سے ایک انٹرویو کو ڈیلیٹ کر دیا ہے۔

یہ انٹرویو چینی پیپلز پالیٹیکل کنسلٹیٹو کانفرنس کے ایک مندوب جیانگ ہانگ کا تھا جنھوں نے کہا کہ ’مندوبین کو آزادی کے ساتھ بولنے کی اجازت ہونی چاہیے لیکن بعض واقعات کے سبب ہر کوئی قدرے بدحواس رہتا ہے اور زیادہ بولنا نہیں چاہتا۔

کائیشن نے اپنے پیر کے مضمون کے بارے میں کہا کہ مدیروں کو یہ بتایا گيا کہ اس انٹرویو میں ’غیرقانونی مواد ہے جو کہ قانون اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس میں جیانگ کا رد عمل بھی شامل کیا گيا تھا جنھوں نے ڈیلیٹ کیے جانے کو ’عجیب اور ناقابل فہم بتایا تھا اور کہا تھا کہ اس میں کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہے۔

گذشتہ ماہ شی جنپنگ نے سرکاری میڈیا ہاؤز کا دورہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ماہ شی جنپنگ نے سرکاری میڈیا ہاؤز کا دورہ کیا تھا

بیجنگ سے نکلنے والی میگزن کائیشن کو چین میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے مالیات کے متعلق رپورٹنگ اور تفتیشی رپورٹنگ کے لیے جانا جاتا ہے۔

یہ اقدام گذشتہ ماہ صدر شی جن پنگ کے سرکاری میڈیا کے دورے کے بعد کیے گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسے وسیع پیمانے پر صحافیوں کو گھٹنوں پر لانے اور اظہار رائے کی آزادی کو ’مغربی اقدار کے تحت حکومت مخالف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

گذشتہ سال دنیا میں سب سے زیادہ صحافیوں کو جیل میں بند کرنے والے ممالک میں چین سرفہرست تھا اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے والی کمیٹی کے مطابق گذشتہ سال 49 صحافیوں کو جیل بھیجا گيا تھا۔ جبکہ فریڈم ہاؤس نے چین کو دنیا میں انٹرنیٹ کی آزادی کو سب سے زیادہ متاثر کرنے کا الزام لگایا ہے۔