چین میں بدعنوانی کرنے والے ’تین لاکھ سرکاری ملازمین کو سزائیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters

چین کی حکمران کمیونسیٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ شال بدعنوانی کرنے والے تقریباً تین لاکھ سرکاری ملازمین کو سزائیں دی ہیں۔

تقریباً دو لاکھ سرکاری ملازمین کو ’چھوٹی سزائیں‘ دی گئی ہیں جبکہ بعض کا تبادلہ کیا گیا ہے۔

کوئی 80 ہزار یا اس سے زیادہ کو سخت جرمانہ کیا گیا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے بدعنوانی کے خلاف مہم کا آغاز کیا ہے جو کہ ان کے حکومتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہے اور اس مہم کے تحت کئی نامور شخصیات کو پکڑا گیا ہے۔

بی بی سی چائنا کے تجزیہ نگار مائیکل برسٹو کا کہنا ہے کہ ’مشکل سے ہی کوئی ایسا ہفتہ گزرتا ہے جس میں اس مہم کے تحت کوئی گرفتاری کی خبر نہ آئے۔‘

نامہ نگار کے مطابق 2015 میں پکڑے جانے والوں کو چین کے سالانہ پارلیمانی سیشن کے دوران چھوڑ دیا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ بیجنگ میں جمع ہونے والے مندوبین کو یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی بدعنوان ملازمین کا تعاقب کرتی رہے گی۔