چین: ویکسین سکینڈل میں 37 افراد گرفتار

کہا جارہا ہے کہ سنہ 2011 سے ہی اس دوا کا غیر قانونی دھندہ جاری تھا جس پر لوگوں میں سخت ناراضگی بھی پائی جاتی تھی

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنکہا جارہا ہے کہ سنہ 2011 سے ہی اس دوا کا غیر قانونی دھندہ جاری تھا جس پر لوگوں میں سخت ناراضگی بھی پائی جاتی تھی

چین کی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرق علاقے میں ٹیکے کے لیے مخصوص ایک دوا میں بدعنوانی کرنے کے الزام میں 37 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ گرفتاریاں گذشتہ ماہ پولیس کے اس اعلان کے بعد ہوئی ہیں جس میں پولیس نے غیر قانونی طور پر ٹیکے کی دوا کو خرید کر فروخت کرنے کے الزام میں ایک ماں اور بیٹی کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ٹیکوں کے لیے مخصوص دوا کا یہ پروجیکپٹ تقریباً ساڑھے آٹھ کروڑ ڈالر کی مالیت کا ہے۔ اس دوا سے متعلق اسے اچھی طرح سے ٹھنڈا نہ کرنے اور نقل و حمل میں لاپرواہی برتنے جیسی شکایت سامنے آئی تھیں۔

کہا جارہا ہے کہ سنہ 2011 سے ہی اس دوا کا غیر قانونی دھندہ جاری تھا جس پر لوگوں میں سخت ناراضگی بھی پائی جاتی تھی۔

اس سکینڈل کے خلاف کارروائی کے تحت دوا بنانے والی کمپنیوں، بڑے خریداروں اور فروخت کرنے والوں پر نظر رکھنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

کرپشن کے اس معاملے میں ملک کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کے ملوث ہونے کا امکان ہے اور اس بارے میں تفتیش کا دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے
،تصویر کا کیپشنکرپشن کے اس معاملے میں ملک کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کے ملوث ہونے کا امکان ہے اور اس بارے میں تفتیش کا دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے

زینوا نیوز ایجنسی نے جن حکام کے پاس یہ کیس ہے ان کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس سلسلے میں دوا بنانے والی تین بڑی کمپنیوں کے خلاف تفتیش کی جارہی ہے جبکہ ایک کمپنی کو آپریشن معطل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

چین میں عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ٹیکے کی اس دوا کو سنبھال کر رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ اس کا اثر کم ہوجاتا ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس دوا کو قاعدے سے نہ رکھنے سے کوئی بہت زیادہ نقصان بھی نہیں ہوتا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ ٹیکے کے لیے یہ مخصوص دوا لائسنس اور بغیر لائسنس والے ذرا‏ئع سےخریدی جا رہی تھی اور پھر اسے غیر قانونی ایجنٹوں کو فروخت کیا جاتا تھا جس کے بعد عام لوگوں کو یہ دوا زیادہ قیمتوں پر دستیاب ہوتی تھی۔

کرپشن کے اس معاملے میں ملک کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں لوگوں کے ملوث ہونے کا امکان ہے اور اس بارے میں تفتیش کا دائرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔