بھارتی مسلمانوں کو اویسی کی ضرورت نہیں

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
چند دنوں قبل حیدرآباد کی ایک علاقائی جماعت مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ انھیں اپنےملک سے بے پناہ محبت ہے لیکن وہ اپنی حب الوطنی کے اظہار کے لیے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔
یہ بیان انھوں نے آر ایس ایس کے سربراہ کے اس بیان کے جواب میں دیا تھا کہ مسلمانوں کو ملک سے محبت کے اظہار کے لیے ’بھارت ماتا کی جے‘ کا نعرہ لگانا چاہیے ۔
اویسی کی دلیل ہے کہ ملک کو ماں کہنا ان کے مذہبی تصورات کےخلاف ہے۔ اسی بیان میں انھوں نےیہ بھی کہا کہ ان سےجبرا کوئی یہ نعرہ نہیں لگوا سکتا خواہ ان کی جان چلی جائے۔
ان کے اس بیان کے بعد مہاراشٹر اسمبلی نےایک قرارداد منظور کی جس میں اویسی کے بیان کی مذمت کی گئی اور تمام ارکان اسمبلی کو ہدایت دی گئی کہ وہ ایوان میں بھارت ماں کی جے کہیں۔ اویسی کی جماعت کے واحد رکن نے اس سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد انھیں معطل کر دیا گیا۔
مدھیہ پردیش اسمبلی نے بھی ایک قرارداد میں اویسی کی مذمت کی ہے۔ کل حیدرآباد کے مفتی نے بھی ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے کے خلاف فتوی جاری کیا ہے۔
یہ غیر ضروری تنازعہ بہت پرانا ہے۔ اس سے پہلے قومی گیت وندے ماترم کا سوال اٹھتا تھا۔ اس میں ملک کو ماں تصور کیا گیا ہے اور اس کے درختوں دریاؤں اور پہاڑوں کو سلام کیاگیا ہے۔ اس پر بھی کچھ مسلمانوں کو اعتراض تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کچھ لوگوں نے یہ راستہ نکالا کہ اس کی ابتدائی چار لائنوں کو پڑھا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگ اسے پڑھتے نہیں تھے لیکن اس کے احترام میں کھڑے رہتےتھے۔ وقت کےساتھ ساتھ یہ تنازع ہلکا پڑ گیا۔ بھارت کی آزادی کی 50ویں سالگرہ پر معروف موسیقار اے آر رحمان نے ’ماں تجھے سلام‘ گا کر ’وندے ماترم‘ کو کافی مقبول بنا دیا ۔
اس طرح کےتنازعے بھارت کی سیاست میں دونوں جانب کے سخت گیروں کے لیے بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ آر ایس ایس جیسی ہندو تنظیمیں یہ تاثر دینےکی کوشش کرتی ہیں کہ یہ نعرہ لگانے والے بہت بڑے محب وطن ہیں اور جو یہ نعرہ نہیں لگاتے وہ ملک کےوفادار نہیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اویسی جیسے سخت گیرسیاسی رہنما اور مسلمانوں کے بعض مذہبی ادارے قومی گیت اور جب الوطنی کےنعروں کے خلاف مذہب کے نام پر فتوے دے کر نہ صرف مسلمانوں کو اس طرح کے غیرضروری تنازعے میں پھنسا دیتے ہیں بلکہ انھیں بہت سےلوگوں کی نظروں میں مشکوک اور دشمن بھی بنا دیتے ہیں۔
عیسائیوں کے کانونٹ سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والوں میں ہمیشہ غالب اکثریت غیر عیسائیوں کی ہوتی ہے وہاں روزانہ پرییر میں سبھی طالب علموں کو مسیحی گیت گانا ہوتا ہے۔ اس سے نہ تو کوئی عیسائی ہو جاتا ہے اورنہ ہی کسی کے مذہبی عقیدے پرکوئی فرق پڑتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
وہاں سے وہ ایک اچھے انسان بن کر نکلتے ہیں۔ اتر پردیش اور ملک کی کئی ریاستوں میں تو سرکاری سکولوں میں علم کی ہندو دیوی سرسوتی کی پرارتھنا کی جاتی ہے۔ یہ ملک کا ایک کلچرل پہلو ہے۔ قومی گیت اور حب الوطنی کےنعروں سے کسی کے مذہب پر کیا اثر پڑے گا؟ ریاست کا مذہب سے کیا لینا دینا؟ ملک کسی مذہب کی جاگیر نہیں ہوتا۔ حب الوطنی کے لیے کسی کےسرٹیفیکٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
مسلمانوں کے مذہبی ادارے اور سخت گیر رہنما اقتدار میں اپنی حصے داری اور افادیت برقرار رکھنے کے لیے فتووؤں اور اپنے بیانات سے مسلمانوں کو ملک کےاصل دھارے میں شامل ہونے سے روکتےرہے ہیں۔ وقت کےساتھ ساتھ مسلمان اب رفتہ رفتہ ان کی گرفت سے نکلنے لگے ہیں۔ انھیں بھی اپنی روز مرہ کی زندگی کےچیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلیےکسی اویسی اور کسی مفتی کی ضررت نہیں ہے۔ وہ بھارت ماتا کی جے جیسے حربوں کو انفرادی طور پرسمجھنےکی صلاحیت رکھتے ہیں۔







