تاریخ سے مغل بادشاہوں کے نام حذف کرنے کی مہم

بھارت میں کچھ لوگ سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارت پر حکمرانی کرنے والے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے دور کا ذکر تاریخ کی کتابوں سے حذف کر دیا جائے۔
لیکن کیوں؟
یہ لوگ ’کتابوں سے مغلوں کو ہٹاؤ‘ ہیش ٹیگ کا استعمال کرکے یہ مہم چلانے کی کوشش میں سولہویں اور سترہویں صدی کی مغلیہ سلطنت کا ذکر ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔
مغلیہ سلطنت نے جنوبی ایشیا میں اسلام مذہب اور مسلم فن و تہذیب کو پھیلایا تھا۔
مغلوں کے دور کا طرز تعمیر، ادب و ثقافت اور کھانے آج بھی اس دور کا عظیم ورثہ سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مغلوں نے مندر توڑے ، ہندؤں کو قتل کیا اور انھیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا۔
اس ہیش ٹیگ کی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب انسانی وسائل کی وزیر سمرتی ایرانی نے اپنی تقریر میں پرائمری سکول کی تاریخ کی کتابوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ان کتابوں میں ملک میں مذہبی تناؤ کو گمراہ کن طریقے سے پیش کیا گیا ہے اور ہندو راجا شواجی کی بے حرمتی کی گئی ہے جبکہ انھیں ایک قومی ہیرو کے طور پر دکھایا جانا چاہئیے‘۔
سمرتی ایرانی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر جاری اس بحث کو مزید ہوا ملی۔ کچھ لوگوں نے مغل بادشاہوں کو ’نام نہاد دولتِ اسلامیہ کا دوسرا روپ کہہ کر پکارا‘ ۔ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’مغلوں کو تاریخ کی کتابوں سے ہٹایا جائے کیونکہ وہ انڈیا کے آئی ایس ایس تھے۔‘
جبکہ ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’مغلوں کو تاریخ کا حصہ نہ بنائیں کوئی بات نہیں لیکن مغلیہ کھانوں کو تو رہنے دیں۔‘جہاں ایک جانب اس ہیش ٹیگ کی حمایت میں بہت لوگ ہیں وہیں اس کے خلاف بھی ٹوئٹس کا سلسلہ جاری ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصنف چیتن بھگت اپنے ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ ’کیا اب آپ لال قلعے اور تاج محل کو ختم کریں گے۔ ثقافت کو محفوظ رکھنا چاہیے نہ کہ تباہ۔‘







