نریندر مودی اور پردیس میں مندر، مسجد

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, قیصر وحید نقوی
- عہدہ, سینیئر صحافی، بی بی سی ہندی کے لیے
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا متحدہ عرب امارات کا دورہ جن دو وجوہات سے بھارت کے عام عوام میں کافی دنوں تک بحث میں رہے گا، ان میں سے ایک ہے شیخ زاید مسجد میں ان کا جانا اور دوسرا ابوظہبی میں مندر کی تعمیر کے لیے زمین کا دیا جانا۔
مجھے یاد تو نہیں پڑتا کہ مودی اس سے پہلے کبھی کسی مسجد میں گئے ہوں۔
وزیر اعظم بننے کے بعد وہ نیپال، بنگلہ دیش، چین اور جاپان کے سفر کے دوران کئی ہندو اور بدھ مندروں میں گئے۔ اس لیے ان کے شیخ زاید مسجد میں جانے کے حوالے سے طرح طرح کے نتائج اخذ کیے جا رہے ہیں۔
کچھ لوگ اسے بہار انتخابات سے بھی منسلک کر کے دیکھ رہے ہیں کہ یہ وہاں کے مسلم ووٹ بینک کو پیغام دینے کی نریندر مودی کی کوشش ہے۔ حالانکہ ایسے نتائج سراسر بے تکے ہیں۔
اسی طرح، مندر کی بات کو مودی بھکتوں کی ایک قسم یہ کہہ کر تشہیر کر رہی ہے کہ یہ نریندر مودی کی ہی عظمت ہے کہ وہاں کی حکومت مندر کے لیے زمین دینے کے لیے تیار ہو گئی۔
ایسے لوگوں کو یہ جان کر تھوڑی مایوسی ہوگی کہ دبئی میں شیو اور کرشن مندر کے علاوہ اکشر دھام کی سوامی نارائن تنظیم کی مذہبی عبادت گاہ، گردوارہ اور گرجا بھی ہیں.

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
اور دبئی میں پہلا ہندو مندر سنہ 1958 میں بنا تھا اور یہ ایک مسجد کے قریب ہے۔ لیکن یہ صحیح ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے مودی کے دورے کے ساتھ ساتھ مندر کا اعلان کر کے ایک خیر سگالی پیغام دینے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کی خواہش واضح طور پر ظاہر کی ہے۔
34 سال بعد وہاں پہنچنے والے کسی بھارتی وزیر اعظم کے لیے اس سے اچھا تحفہ بھلا اور کیا ہو سکتا تھا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہر حال، یہ دونوں ہی باتیں مودی کے حق میں جاتی ہیں۔ نئے مندر کا اعلان ان کے ہندو نظریاتی حامیوں کے درمیان ان کی تشخص قائم رکھنے میں مددگار ہوگا۔
جہاں تک شیخ زاید مسجد کی بات ہے، میرے خیال سے بڑی خبر اس وقت ہوتی جب مودی وہاں نہیں جاتے! شیخ زاید مسجد ابو ظہبی کا نمبر ایک سیاحتی مقام ہے۔ مکہ اور مدینہ کے بعد یہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسجد سمجھی جاتی ہے۔
ابو ظہبی جانےوالا شاید ہی کوئی سیاح وہاں نہ جاتا ہو۔ ایس صورتحال میں مودی اگر وہاں نہ جاتے تو کیا یہ واقعی عجیب نہ ہوتا؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سکل کیپ پہننے سے انکار کر دینے اور مسلسل دو سال صدر کی افطار پارٹی میں نہ جانے کے بعد مودی اگر شیخ زاید مسجد کو اپنے سفر میں نہ شامل کرتے تو اس سے ساری اسلامی دنیا میں ان کا کٹر ہندو کا خیال ہی پختہ ہوتا۔
ظاہر سی بات ہے کہ مودی اب تک جس تصور کو اوڑھ کر چلتے رہے ہیں، اس کو وہ راتوں رات اتار کر پھینک نہیں کر سکتے۔
ان کا اس سفر سے ان کے لیے بھی اپنا ایک نیا امیج قائم کا راستہ کھلا ہے اور یہ راستہ بھی کھلا ہے کہ اپنے ملک میں بھی وہ ایسی جگہوں پر جا سکیں، جہاں جانے سے وہ اب تک پرہیز کرتے رہے تھے۔
گذشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ مودی کیرالہ میں ہندوستان کی قدیم مسجد میں مذيري پروجیکٹ کا افتتاح کرنے جا سکتے ہیں۔ اگر وہ اب وہاں گئے، تو اس میں کسی کو کچھ ماموزوں نہیں لگے گا۔
آغاز کہیں نہ کہیں سے تو ہونا ہی تھا!







