بنگلور کا تیندوا پھر فرار

تیندوے کو یہاں طبی امداد کے لیے رکھا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہKashif Masood

،تصویر کا کیپشنتیندوے کو یہاں طبی امداد کے لیے رکھا گیا تھا

بھارت کے جنوبی شہر بنگلور کے ایک سکول میں چھ افراد کو زخمی کرنے والا تیندوا اپنے پنجرے سے نکل بھاگا ہے۔

یہ آٹھ سالہ تیندوا بنگلور کے ایک سکول میں آٹھ فروری کو کہیں سے گھس آيا تھا اور بےہوش کیے جانے سے قبل اس نے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا تھا۔

اس تیندوے کو پکڑ کر طبی امداد کے لیے بانرگھٹا نیشنل پارک بھیج دیا گیا تھا لیکن اتوار کو وہ اپنے پنجرے سے باہر نکل گیا۔

پارک کے اہلکار تیندوے کے پاؤں کے نشان دیکھ رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہKashif Masood

،تصویر کا کیپشنپارک کے اہلکار تیندوے کے پاؤں کے نشان دیکھ رہے ہیں

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

نیشنل پارک کے ڈائریکٹر سنتوش کمار نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ’خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تیندوا ابھی بھی پارک کے اندر ہی ہے جو کہ اس کا فطری مسکن ہے۔‘

انھوں نے ہندوستان ٹائمز اخبار کو بتایا: ’ہم چاہتے تھے کہ وہ مزید کچھ دن باڑے میں رہے کیونکہ اس کا علاج کیا جا رہا تھا۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ پنجڑے سے نکل جانے کے بعد بھی تیندوا پارک کے اندر ہی ہے

،تصویر کا ذریعہKashif Masood

،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ پنجڑے سے نکل جانے کے بعد بھی تیندوا پارک کے اندر ہی ہے

نیشنل پارک کے حکام نے بتایا کہ چیتا اس وقت باہر آ گیا جب اس کی نگرانی پر مامور افراد اسے کھانا کھلانے گئے اور انھوں نے دروازہ ٹھیک سے بند نہیں کیا۔

خیال رہے کہ تیندوے کے کنڈالاہلی علاقے کے سکول میں داخل ہونے کے ایک ہفتے بعد اس کا پنجرے سے باہر نکل جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

سکول میں جب اسے بے ہوش کرنے کی کوشش کی جارہی تھی تو اس نے ایک سائنسدان اور محکمۂ جنگلات کے ایک اہلکار سمیت چھ لوگوں کو زخمی کر دیا تھا۔

سکول میں تیندوے نے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہpublic tv

،تصویر کا کیپشنسکول میں تیندوے نے کئی لوگوں کو زخمی کر دیا تھا

وائلڈ لائف اہلکار نے بی بی سی کے عمران قریشی کو بتایا کہ یہ تیندوا سکول کے قریب ہی واقع جنگل کے ایک ٹکڑے سے بھٹک کر ادھر آ نکلا ہوگا۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں بہت سے تیندوے دیکھے گئے اور حفظ ما تقدم کے طور پر علاقے کے 142 سکول بند کر دیے گئے۔

حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں تیندوئے کی تعداد 12 ہزار سے 14 ہزار کے درمیان ہے۔

زخمی ہونے میں مکمۂ جنگلات کا اہلکار اور ایک سائنسداں بھی شامل تھا

،تصویر کا ذریعہReproducao

،تصویر کا کیپشنزخمی ہونے میں مکمۂ جنگلات کا اہلکار اور ایک سائنسداں بھی شامل تھا