سلمان کلپنا سے زیادہ کھانے میں مگن

دہلی کے چڑیا گھر نے کیرالا سے جو چیتا اپنے ہاں چیتوں کی نسل بڑھانے کے لیے ادھار لیا تھا، اسے واپس اپنے گھر بھیجا رہا ہے کیونکہ وہ اتنا موٹا ہے کہ اس سے افزائش نسل کا کام نہیں لیا جا سکتا۔
دہلی کے چڑیا گھر کے حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 12 سالہ ’سلمان‘ نامی امریکی چیتے یا جیگوار کو ایک سال پہلے کیرالا کے چڑیا گھر سے مستعار لیا تھا، لیکن ایک سال کے دوران اس نے ’کلپنا‘ نامی مادہ چیتا میں کسی قسم کے دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔
روزنامہ انڈین ایکپریس کے مطابق چڑیا گھر کے اہلکار کے بقول ’ سلمان کلپنا سے زیادہ اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف شوق سے آتا ہے۔‘
سلمان اور کلپنا کی دیکھ بھال پر معمور اہلکار ریاض خان نے اخبار کو بتایا کہ ’ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مادہ نر کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے حیلے بہانے کرتی ہے، لیکن وہ پنجرے کے ایک کونے میں پڑا رہتا ہے اور مادہ کو کوئی جواب نہیں دیتا۔
چڑیا گھر کا کہنا تھا کہ گرمیوں میں وہ اس نر امریکی چیتے کو روزانہ چھ کلو بھینس کا گوشت دیتے ہیں۔ اہلکاروں کے مطابق سلمان دیسی شیر سے زیادہ کھانا کھاتا ہے اور انھوں نے کوشش کی کہ سلمان کم کھانا کھائے لیکن انھیں کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔
’سلمان ایک سست اور پیٹو قسم کا چیتا ہے جسے صرف کھانے اور آرام سے غرض ہے۔‘
سلمان کو کلپنا کے ساتھ ایک بڑے پنجرے میں بھی چھوڑا گیا لیکن وہاں بھی نہ تو اس نے کسی قسم کی ورزش کی اور نہیں مادہ میں کسی جنسی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔‘

لیکن چڑیا گھر کے وہ اہلکار جو اس بھاری بھرکم چیتےکی حامی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سلمان کو الزام دینا درست نہیں کیونکہ دہلی چڑیا گھر کے دو اپنے چیتے بھی کلپنا کو بچہ نہیں دے سکے ہیں۔ ان اہلکاروں کے خیال میں سلمان کے مزاج میں سستی کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کے وہ اپنے گھر سے دور ہے جس کا اسے دُکھ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ بھارت کے چڑیا گھروں میں پائے جانے والے تیندوں میں سلمان وہ واحد چیتا نہیں ہے جسے افزائش نسل میں ناکامی پر تنقید کا سامنا ہے۔
رواں سال کے اوائل میں کولکتہ کے علی پور چڑیا گھر کے ایک سفید ٹائیگر ’وشال‘ نے بھی ایک چیتی کی ’اٹھکیلیوں‘ کو مسترد کر دیا تھا حالانکہ وشال کو پیٹ کے کیڑوں کی دوا اور جنسی ترغیب بڑھانے والی وٹامن بھی دی گئی تھی۔
تاریخی طور پر جیگوار نسل کی چیتوں کا گھر امریکہ رہا ہے اور جنگلی حیات کے تحفظ کی عالمی تنظیم ’آئی یو سی این‘ نے جیگوار کو اپنی ’سرخ فہرست‘ میں رکھا ہوا ہے جہاں ان جانوروں یا پودوں کو رکھا جاتا ہے جن کی نسل ناپید ہونے کے خطرے کے قریب پہنچ چکی ہے۔







