’چیتے جنگلات کی حفاظت کر رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سندربن کے مینگروز جنگلات بنگلہ دیش اور بھارت کی ساحلی پٹی تک پھیلے ہوئے ہیں۔
یہ جنگلات خلیج بنگال میں گنجان آبادیوں کو قدرتی آفات سے بچانے اور ماحولیاتی نظام میں توازن میں بے حد مددگار ہیں اور یہ ناپیدی کے خطرے سے دوچار رائل بنگال چیتوں کا مسکن بھی ہیں۔
سندربن کے جنگلات میں ہر سال ان چیتوں کے حملوں میں درجنوں افراد مارے جاتے ہیں۔
امدادی ادارے چیرٹی کرسچن ایڈ نے ان علاقوں کا دورہ کیا اور وہاں ان خواتین سے ملاقات کی جن کے شوہر چیتوں کے حملوں میں مارے گئے اور وہ افراد جو ان کے حملوں میں زخمی ہو گئے۔ جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق چیتوں کے بغیر یہاں کا ماحولیاتی نظام ختم ہو کر رہ جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہsalman saeed bbc
یہاں پر بسنے والے زیادہ تر لوگ خوراک کے لیے جنگل اور دریا پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ لوگ آمدن کے لیے مچھلیاں اور شہد فروخت کرتے ہیں۔ اس کام میں انھیں خطرناک چیتوں کا براہ راست سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سبارتی مونڈل کا شوہر دو سال پہلے چیتے کے حملے میں مارا گیا تھا۔ سبارتی کے مطابق’ جب میں نے یہ خبر سنی تو سُن ہو گئی۔ مجھے گھر کا نظام چلانا تھا۔ میں نے کھیتوں میں کام کرنا شروع کر دیا اور میرے بیٹے نے مزدوری شروع کر دی۔ وہ اپنے باپ کی ہلاکت کی وجہ سے یہاں مچھلیاں پکڑنا نہیں چاہتا تھا اور اسی وجہ سے کولکتہ چلا گیا۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
مقامی افراد جیسے گھنے جنگل میں جاتے ہیں تو ان کو چیتوں کے حملوں کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
اوشا رامی کا شوہر آٹھ سال پہلے چیتے کے حملے میں مارا گیا۔’میرا شوہر ہمیشہ جنگل میں جانے میں خوف محسوس کرتا تھا اور اس دن پہلی بار مچھلیاں پکڑنے گیا اور پہلے ہی دن اس کی قسمت خراب نکلی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آنتھ سیال 2002 میں چیتے کے حملے میں زخمی ہو گئے۔ ان کے چہرے اور سر پر زخم آئے۔

،تصویر کا ذریعہOther
انھوں نے اس حملے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’جب چیتا میری جانب بھاگتا ہوا آیا تو اس وقت میرے ہاتھ میں لاٹھی تھی۔ میں نے اس سے چیتے کو دو بار مارا اور یہ ٹوٹ گئی۔ چیتے کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ اس نے پہلے میرے چہرے پر پنجہ مارا اور پھر دونوں پنجوں سے میرا سر پکڑ لیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ چیتوں کے حملوں میں اضافے کی وجہ ان کے قدرتی مسکن میں کمی کے ساتھ دستیاب شکار میں کمی ہے۔
ان حملوں میں نشانہ بننے والے رنجیت بسواس کے مطابق ’وہ جنگل میں لکڑی کاٹ رہے تھے کہ ان پر حملہ ہو گیا۔ اچانک ہی پیچھے سے ایک چیتا آیا اور میرے کولھے پر کاٹ دیا، میں زمین پر گر گیا اور اس نے مجھے دس منٹ تک پکڑے رکھا۔ میں زمین پر تھا اور وہ میرے اوپر تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہap
ایک اور متاثرہ شخص رابی مجومدر کے مطابق’چیتے نے چھلانگ لگا کر مجھے سر سے پکڑ لیا اور پیچھے کی جانب کھینچنا شروع کر دیا۔ ساری دنیا تاریک ہوگئی اور مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا کیونکہ میرا سر چیتے کے منہ میں تھا۔ ‘
سندربن میں اب بھی دیہاتی نہروں اور دریاؤں سے مچھلیاں پکڑنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
لکشمی دھالی کا شوہر تقریباً چھ سال پہلے جنگل میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے چیتے کے حملے میں ہلاک ہو گیا۔
لکشمی کے مطابق شوہر کی ہلاکت کی وجہ سے انھیں جہاں مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑی وہیں اب اپنے بیٹے کی وجہ سے پریشان ہیں۔’میں اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکی، میرا بیٹا اب بھی روزانہ مچھلیاں پکڑنے جاتا ہے اور وہ جب تک گھر واپس نہیں آتا اس وقت تک مجھے نیند نہیں آتی۔ اور بعض اوقات میں سڑک پر نکل جاتی ہوں تاکہ دیکھ سکوں کہ آیا وہ واپس آ رہا ہے کہ نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہOther
اسی طرح مینارتی رائے کا شوہر 15 سال پہلے چیتے کے حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔
’چیتے جنگل کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جب ہم نے حکام سے پوچھا کہ ان جنگلات کی کیا ضرورت ہے تو انھوں نے کہا کہ اگر جنگلات نہیں ہوں گے، درخت نہیں ہوں گے تو زندگی بھی نہیں رہے گی۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ ہم جنگلات کی حفاظت کر رہے ہیں۔‘
کولکتہ کے ادارے ’سوسائٹی برائے ورثہ اور ماحولیاتی نظام سے متعلق تحقیق‘ کے ڈائریکٹر جودیپ کنڈا کے مطابق’اگر یہاں چیتے نہ ہوں تو لوگ بے خوف ہو جائیں گے۔ وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو جائیں گے، جیسا کہ درخت کاٹ کر فروخت کرنا۔‘







