مفرور ملزمان تاش کے پتّوں پر

معاشرتی رابطوں کی اکثر ویب سائٹس نے پولیس کی اس انوکھی ترکیب کو سراہا ہے
،تصویر کا کیپشنمعاشرتی رابطوں کی اکثر ویب سائٹس نے پولیس کی اس انوکھی ترکیب کو سراہا ہے

شمالی چین میں پولیس نے عام لوگوں میں تاش کے پتّوں کے پندرہ ہزار ڈیک تقسیم کیے ہیں جن پر ایسے مقامی ملزمان کے خاکے چسپاں ہیں جو مفرور ہیں۔

شمالی چین کے بڑے شہر نننگ کے قریبی علاقے بنیانگ کے پولیس حکام کو امید ہے کہ ان کے اس اقدام سے عام لوگوں کو 248 مفرور ملزمان کی شناخت میں مدد ملے گی۔

ایک چینی ِخبر رساں ادارے کے مطابق یہ تمام ملزمان پولیس کو انٹرنیٹ پر جرائم یا سائیبر کرائمز کے حوالے سے مطوب ہیں۔

پولیس نے تاش کے جو پندرہ ہزار ڈیک تقسیم کیے ہیں ان میں پانچ قسم کے ڈیک شامل ہیں۔ تقسیم کیے جانے والے پتّوں پر مبینہ ملزموں کے قومی شناختی کارڈ کے نمبر اور رہائشی پتے درج کرنے کے علاوہ پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ افراد کس سلسلے میں مطوب ہیں۔

پتّوں کی پشت پر ایک ٹیلیفون نمبر دیا گیا ہے اور لوگوں سے درخواست کی گئی ہے کہ اگر وہ ان افراد کے بارے میں کچھ جانتے ہیں تو اس نمبر پر فون کریں۔

اگر کسی شخص کی اطلاع پر پولیس مطلوبہ ملزم کوگرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اطلاع دینے والے فرد کو دو ہزار ین ( 211 برطانوی پاؤنڈ) انعام بھی دیا جائے گا۔

چین میں معاشرتی رابطوں کی اکثر ویب سائٹس نے پولیس کی اس انوکھی ترکیب کو سراہا ہے اور اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ اسی ترکیب کو استعمال میں لا کر ملک میں گمشدہ افراد کی تلاش کو بھی آسان بنایا جا سکتا ہے۔

ویب سائٹ ’ویبو‘ کا کہنا ہے کہ ’تاش کے پتوں پر گمشدہ بچوں کی تصویریں بھی شائع کی جائیں۔‘

لیکن ویب سائٹس کے اکثر صارفین کے برعکس کئی لوگ حیران ہیں کہ پولیس ملک میں تاش کو فروغ دے رہی ہے حالانکہ چین میں تاش پر جُوا کھیلنا غیر قانونی ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آیا پولیس ملک میں جوئے کو فروغ دینا چاہتی ہے‘ جبکہ اور دوسرے صارف نے لکھا کہ ’میں تو اس قسم کے تاش کے پتّوں سے کبھی بھی نہ کھیلوں۔‘

حالیہ دور میں ’انتہائی مطلوب افراد‘ والے تاش کے پتّوں کا کامیاب تجربہ سنہ 2003 میں امریکی فوج نے عراق میں کیا تھا جب صدام حسین کے دور کے سرکاری اہلکاروں کی تصاویر پتّوں پر شائع کی گئی تھیں تاکہ امریکی فوجیوں کو انھیں پکڑنے میں مدد ملے۔