چین میں ’بدھ مت کے مستند زندہ اوتاروں‘ کی فہرست

،تصویر کا ذریعہGetty
چین نے پہلی بار ’بدھ مت کے مستند زندہ اوتاروں‘ کی فہرست جاری کی ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ بدھ مت کے دھوکےباز اوتاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے منصب کو بدھ مت کے پیروکاروں سے پیسے بٹورنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
چین کے سرکاری خبر رساں ادارے شن ہوا کے مطابق بیجنگ کی جانب سے پہلی بار آواگون کے معاملے میں کوئی غیر معمولی قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت مذہبی امور کے ریاستی ادارے کی ویب سائٹ پر بدھ مت کے 70 ’مصدقہ‘ اوتاروں کے نام، تصاویر، اور ان کے جغرافیائی محل وقوع کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
اس قدم کو فہرست میں شامل افراد کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والی فہرست میں شامل درخانگ تھبٹن کھیٹسپ نے شن ہوا کو بتایا کہ ’بدھ کے اوتار کی حیثیت سے میں اس بارے میں حقیقی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔‘
چین کے مذہبی امور کے ادارے کے مطابق اس نظام کو متعارف کروانے کا مقصد ’جعلی‘ اوتاروں کا تدارک کرنا ہے جو تبت کے بدھ مت مذہب کو اور اس کے پیروکاروں کو لوٹ رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دوسری جانب روحانی فہرست بنانے کے اس منصوبے کو دیگر حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے تبت کے معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے نکولس بیکیولن نے گذشتہ سال دسمبر میں اس منصوبے کے اعلان کے موقعے پرامریکی جریدے ٹائم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بدھ کے اوتاروں کی فہرستیں بنانے اور آواگون کے معاملے پر تشکیل دی جانے والی پالیسی کا مقصد موجودہ دلائی لاما کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر چین کی حکومت کی گرفت مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔‘
اس نظام کو دیگر مذہبی تقرریوں کے معاملے میں ریاستی عمل دخل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
14 ویں اور موجودہ دلائی لاما تینزن گیاتسو بدھ مت کے عقیدے کے اعتبار سے گذشتہ دلائی لاما کا دوسرا جنم ہیں جو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
چین کی حکومت کے خلاف سنہ 1959 کی ناکام بغاوت کے بعد سے موجودہ دلائی لاما بھارت میں مقیم ہیں۔
سنہ 1995 میں دلائی لاما اور بیجنگ کی جانب سے دو مختلف بچوں کو پنچن لاما مقرر کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ دلائی لاما کے بعد پنچن لاما بدھ مت کا دوسرا سب سے بڑا منصب ہے۔
اب’سرکاری‘ پنچن لاما کی عمر 25 سال ہے۔ چین کی جانب سے ان کی تخت نشینی کی 20ویں سالگرہ کے موقعے پر گذشتہ سال دسمبر میں انھیں اس حیثیت میں سرکاری سطح پر تسلیم کر لیاگیا تھا۔







