جلاوطنی ۔ تبتی قوم کی شناخت
- مصنف, ایلینور تھامس
- عہدہ, بی بی سی ریڈیو فور، دھرم سلا
انیس سو انسٹھ میں دلائی لامہ کے بھارت جانے کے بعد آج تک تبت کے لوگ ہمالیہ کے راستے خطرناک پیدل سفر کرتے ہوئے جلا وطنی کی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں۔

آج بھارت میں تبت کے لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جن میں سے زیادہ تر لوگ چین کےتبت پر قابض ہونے سے پہلے کی اپنے وطن کی تصویر آج بھی واضح طور پر اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔
انہی میں سے ایک کیسانگ تاکلہ بھی ہیں جو اب دھرم شالہ کے علاقے میں موجود تبت کی جلاوطن حکومت (جی او ای) میں وزیر برائے اطلاعات اور بین القوامی تعلقات کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں ۔ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں: 'آپ کہ سکتے ہیں کہ میں دنیا کی چھت پر پیدا ہوئی تھی ۔ پوری نامی یہ چھوٹا سا قصبہ تبت کی سطح پر واقع ہے۔ مجھے یاد ہیں وہ سالانہ پکنکس ، میلے، آشرم کی سیر اور گھڑ سواری ۔ یہ سب قدرت کے بہت قریب تھا۔'
مسز تاکلہ کے والد کی لہاسہ میں ایک دکان تھی اور وہ تجارت کی غرض سے بھارت آیا جایا کرتے تھے ۔ انیس سو انسٹھ کے آغاز میں جب تبت میں زندگی مشکل ہونے لگی تو ان کے والد انہیں اور ان کے بھائی کو بھارت لے آئے جہاں ان سب نے ایک نئی زندگی میں قدم رکھا۔ اس سفر کی یاد وہ کچھ اس طرح تازہ کر رہی ہیں
'بچے تھے ہم، لیکن مجھے وہ سفر یاد ہے ۔ ہم گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے تھے جیسے کسی ڈولی یا پالکی میں بیٹھے ہیں۔ اور جیسے ہی ہم بھارت پہنچے سب کچھ جیسے بدل گیا۔ ہم نے سِکِم تک گاڑی میں سفر کیا ۔ مجھے پٹرول کی بُو پسند نہیں آئی تھی مگر یہ سب کچھ عجیب اور مزیدار تھا۔'
ان تینوں کے بھارت پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد انہیں ایک ٹیلیگرام کے ذریعے لہاسہ میں چینی فوجی دستوں کے خلاف بغاوت کی اطلاع ملی۔ ان کے خاندان کے کچھ لوگ اس وقت بھی تبت میں موجود تھے اور انہیں کئی مہینوں تک مزید خبروں کا انتظار رہا تاہم آہستہ آہستہ انہیں یہ احساس ہو گیا کہ اب وہ کبھی واپس نہیں جا سکیں گے۔ مسز تاکلہ ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ' میں بہت عرصے سے اس کوشش میں ہوں کہ مجھے کسی طرح میرے پرانے گھر کی ایک تصویر مل جائے مگر میرا خیال ہے اب میں اس پہچان بھی نہیں سکتی۔ میں ایک جلا وطن ہوں اس لیے مجھے کبھی یہ احساس نہں ہوا کہ میرا اپنا بھی کوئی گھر ہے کہیں۔'
تبت سے ملک بدر ہونے والے تقریباٌ ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ لوگ آج دنیا کے مختلف حصوں میں رہ رہے ہیں ۔ ان میں کئی نوجوان ہیں جو جاتے ہوئے اپنے خاندان والوں کو الوداع بھی نہیں کہہ سکے ۔ ان میں کئی ایسے جلاوطن بھی ہیں جو چینی حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کے باعث جیل تک کاٹ چکے ہیں ۔ باقی لوگ اپنی پڑھائی کی خاطر بھارت آتے ہیں جو ایک واحد جگہ ہے جہاں یہ لوگ اپنی مادری زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تاریخ اور روایتی آرٹس کی تربیت حاصل کر سکتے ہیں ۔

اوزر ایک راہب ہے اور اس نے بھارت آنے کی غرض سے اپنے خانہ بدوش خاندان کو تبت کے کھم کے علاقے میں چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنے خاندان کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہے 'میرے والدین کو تبت کے بارے میں انیس سو انسٹھ سے پہلے کی معلومات بھی تھیں مگر یقیناٌ وہ اس کے بارے میں بات نہیں کر سکتے تھے ۔ مجھے یاد ہے صرف ایک بار میرے والد نے چین کی دخل اندازی سے پہلے کی زندگی کو یاد کیا تھا۔ ہم اپنے گھر میں دلائی لامہ کی تصویر ایک کھڑکی کے پیچھے چھپا کر رکھتے تھے ۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اوزر ایک چرواہا تھا مگر اپنی قوم کے بہت سے دوسرے افراد کی طرح اس کی بھی دلائی لامہ سے ملنے کی خواہش تھی ۔ اور سترہ سال کی عمر میں اس نے ایک مہینہ پہاڑ پھلانگتے اور فوجی دستوں کو چکما دیتے ہوئے نیپال کی طرف سفر میں گزارا۔ وہ اپنے سفر کی مشکلات یاد کرتے ہوئے کہتا ہے:
'تبت سے نئے آنے والے لوگوں کے لیے یہ سفر انتہائی مشکل ہے۔ صرف میرے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مہاجرین کے لیے بھی۔ ہم راتوں میں پیدل چلتے رہے ۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ ہم میں سے کچھ لوگ راستے میں بیمار پڑ گئے اور ہمارے پاس انہیں وہیں پہاڑوں میں چھوڑ آنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔'
بھارت پہنچنے پر اوزر نے فلسفہ پڑھا اور دو سال پہلے اس نے اپنے آشرم سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ۔ بارہ سال سے وہ اپنے خاندان والوں سے نہیں مل سکا ہے اور اسے یقین ہے کہ اگر اس نے واپس جانے کی کوشش کی تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔
ان جلا وطن لوگوں میں اپنے ملک اور گھروں کی خاطر ذمہ داری کا احساس بہت شدید ہے ۔ ان لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ یہ ماڈرن لوگ ہیں تاہم ان کی جڑیں ان کے آبائی علاقے اور بزرگوں کی روایات اور اعتقادات میں پیوست ہیں۔
نئے آنے والے مہاجرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کے تبت مکمل طور پر بدل رہا ہے، نئی نسل کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تبت کے لوگوں کی شناخت کس طرح مرتب ہو رہی ہے ؟ تبتن چلڈرن ویلیج دھرمشالہ میں موجو تبت کے بچوں کے لیے ایک ایسی جگہ ہے جہاں تبت سے ایسے بچے بھی آتے ہیں جن کے ساتھ والدین موجود نہیں ہوتے ۔
تاشی نے اپنی بہن کے ہمراہ آٹھ سال کی عمر میں تبت سے ہجرت کی ۔ وہ کہتی ہیں ' جب میں تبت کے سکول میں پڑھتی تھی تو ہماری سکول پرنسپل کو تبتن ہونے کے باوجود صرف چینی زبان آتی تھی اور ہمارے والدین کی ہمیں بھارت بھیجنے کی یہ بھی ایک بڑی وجہ تھی۔ اب ہم اس سکول میں اپنی تاریخ کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبان بھی سیکھ رہے ہیں۔ اور اب بھارت میں میں چینی زبان بھی سیکھ رہی ہوں مجھے لگتا ہے کہ واپس تبت جانا اب بہت مشکل ہے لیکن اگر میں کبھی واپس چلی گئی تو مجھے چینی زبان بھی آنی چاہیے۔ '
تاشی اپنی پڑھائی کی افادیت سے واقف ہونے کے ساتھ ساتھ تبت کے لوگوں کے لیے ایک موہوم سی امید بھی رکھتی ہے اور اسی لیے اس کا کہنا ہے: ' میں تبت کو ایک آزاد ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی ہوں اور میرا خواب ہے کے تبت کی ساری قوم دلای لامہ کو ایک دن پوٹالہ (دلائی لامہ کا ذاتی گھر) میں جوش و خروش کے ساتھ خش آمدید کہہ سکے ۔ '
تاریخی اعتبار سے ہر سال دو سی تین ہزار کے قریب تبت کے لوگ ہجرت کر کے بھارت میں پناہ تلاش کرتے ہیں تاہم گزشتہ سال کے دوران بھارت میں مچنے والی افرا تفری نے اس تعداد کو کم کر کے چند سو تک محدود کر دیا ہے ۔
بھارت میں موجود تبت کی جلاوطن حکومت کے وزیراعظم سمدھونگ رنپوچی کہتے ہیں 'بھارت نے کبھی بھی تبت کے لوگوں کو یہاں آنے سے نہیں روکا لیکن آپ صرف نیپال کے راستے یہاں آ سکتے ہیں۔ گزشتہ بارہ مہینوں میں نہ صرف تبت میں پابندیاں زیادہ ہو چکی ہیں بلکہ بارڈر پر بھی رکاوٹوں میں اضافہ ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب یہ لوگ آسانی سے نہیں بھاگ سکتے۔'
خانہ بدوشی غیر قانونی قرار دیے جانے ، آمدورفت کے ذرائع میں بتدریج تبدیلی اور ہین چینی مہاجرین کی تبت میں آمد یہ وہ تمام عناصر ہیں جن کے باعث آج تبت کی ثقافت اور رہن سہن کا طریقہ کر کو لاحق خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ ڈر اس بات کا ہے کے اگر جلاوطنی کی طرف جانے والا یہ راستہ بھی پر خطر ہو گیا تو تبت کے لوگوں کے پاس اپنی شناخت اور بدھ روایات کو بچانے کے اختیارات معدوم ہو جائیں گے۔







