’پاکستان حملے کی شفاف تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے‘

دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشندونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے

امریکہ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے۔

جمعرات کو امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے یومیہ بریفنگ میں کہا کہ امریکہ اس معاملے میں پاکستانی حکام سے مکمل طور پر رابطے میں ہے۔

گذشتہ ہفتے بھارت کے صوبے پنجاب میں پٹھان کوٹ کے علاقے میں ایئر بیس پر حملے میں سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد چھ شدت پسند مارے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کو قابلِ عمل اور ٹھوس معلومات فراہم کی ہیں جبکہ پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب کو اس معاملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔

جان کربی نے بھی کہا کہ پاکستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پٹھان کوٹ ائیر بیس پر حملے کی تحقیقات کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ پٹھان کوٹ حملے کی مکمل، شفاف اور جامع تحقیقات ہوں اور ہم اس سلسلے میں پاکستان کے حکام سے مکمل رابطے میں ہیں۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ تحقیقات مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا اور کس حد تک شفاف ہوں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے بھارت میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کی مذمت کی ہے اور خود پاکستان کے لیے بھی دہشت گردی ایک بڑا خطرہ ہے۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گرد گروہوں میں عدم تفریق کی پالیسی کے تحت شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی خطے کا مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی علاقائی طور پر ہونا چاہیے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان مسئلے کے حل میں اہم کردار ادار کرے۔‘

خطے میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے امریکہ نے دوطرفہ بات چیت پر زور دیا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنخطے میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے امریکہ نے دوطرفہ بات چیت پر زور دیا ہے

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کے ’پاکستان سے تعلقات پیچیدہ معاملہ ہے اور ہم ہمیشہ ہر چیز پر متفق نہیں ہوتے ہیں۔‘

دوسری جانب بھارت نے پاکستان سے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ تبھی آگے بڑھے گا، جب پاکستان پٹھان کوٹ ایئربیس کے حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے کہا کہ ’گیند اب پاکستان کی کورٹ میں ہے اور ہمیں اب یہ دیکھنا ہے کہ دہشت گرد حملے اور اس پر دی جانے والی انٹیلی جنس پر پاکستان کا کیا ردعمل ہوتا ہے۔‘

وکاس سواروپ نے جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کو پٹھان کوٹ حملے سے متعلق ’قابل عمل معلومات‘ فراہم کی گئیں ہیں جن پر وزیراعظم نواز شریف نے ’فوری اور فیصلہ کن‘ کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے سیکریٹری خارجہ کے درمیان مذاکرات آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہونا ہیں۔