’حملہ آوروں کو سرحد پار سے تعاون حاصل تھا‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بھارت کے وزیر مملکت برائے داخلی امور کرن ریجیجو نے کہا ہے کہ پٹھان کوٹ میں حملہ کرنے والےگروپ کو پاکستان کے بعض عناصر سے تعاون حاصل تھا۔
واضح رہے کہ سنیچر کی صبح چند مسلح افراد نے پٹھان کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے ایئر بیس پر حملہ کیا جس میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں اب تک چار حملہ آوروں سمیت کل سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس واقع پر وزارت داخلہ کے وزیر مملکت ریجیجو نے کہا: ’یہ افسوسناک واقع ہے لیکن ہماری سکیورٹی فورسز نے سخت جواب دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’ہمارے پاس اس گروہ کے بارے میں قابل اعتماد معلومات ہیں کہ انھیں سرحد پار سے بعض عناصر سپانسر کر رہے ہیں۔‘
اس سے قبل بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پٹھان کوٹ ایئر بیس پر حملے کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق راج ناتھ سنگھ نے کہا: ’پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے۔ ہم صرف پاکستان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر رشتے چاہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا: ’ہم امن چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت پر شدت پسند حملہ ہوا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘
دوسری جانب کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا: ’میں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ میں شہید ہونے والے سکیورٹی فورسز کے لواحقین کے ساتھ گہرے احساسات کا اظہار کرتا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جبکہ کانگریس کے ترجمان نے پنجاب میں شدت پسندانہ حملے پر سوال کیا کہ کیا نریندر مودی اس معاملے کو پاکستان کے سامنے اٹھائیں گے جہاں سے وہ ہو کر آئے ہیں۔
ترجمان رندیپ سرجے والا نے سوال کیا: ’حکومت کے پاس پاکستان سے آنے والے شدت پسندوں کو روکنے کے لیے کیا منصوبہ ہے؟‘
جبکہ برسراقتدار پارٹی بی جے پی کے ایک ترجمان نلن کوہلی نے کہا کہ حکومت ہند شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اپنی جانب سے بہترین کوشش کر رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ادھر پٹھان کوٹ میں سینکڑوں افراد نے اس حملے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے اور پاکستان مخالف نعرے لگائے ہیں۔
دریں اثنا پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک بیان میں پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر حملے کی مذمت کی ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان نے بھارتی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے اس واقعے پر اظہار افسوس بھی کیا ہے۔
دوسری جانب پنجاب میں کانگریس کے صدر امریندر سنگھ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ واضح طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے جسے نہیں ہونے دینا چاہیے۔‘







