بھارتی ایئر بیس پر سکیورٹی اداروں کی کارروائی مکمل

،تصویر کا ذریعہAP
بھارتی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحد کے قریب پٹھان کوٹ ایئر بیس پر سکیورٹی ادروں نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور حملہ کرنے والے پانچ مسلح افراد فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں۔
بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ سنیچر کو پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر حملے میں حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل بھارتی حکام نے کہا تھا کہ سنیچر کو بھارتی ایئر بیس پر حملہ کرنے والوں میں سے چار کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے ہوا۔
<link type="page"><caption> ’گرداس پور میں حملہ کرنے والے پاکستان سے آئے تھے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150730_gurdaspur_attack_pakistan_zz.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بھارت:گرداس پور میں آپریشن مکمل، تین حملہ آوروں سمیت دس ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150727_gurdaspur_police_station_attack_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہReuters
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور فوجی وردی پہنے ہوئے تھے اور وہ ایک ہائی جیک کی ہوئي کار کے ذریعے ایئر بیس میں داخل ہوئے تھے۔
پٹھان کوٹ کے واقعے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندؤں سے بات کرتے ہوئے بھارت کے وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ ہمارے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہیے۔ہم امن چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت پر کسی بھی قسم کا دہشت گرد حملہ کیا گیا تو ہم بھرپور جواب دیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا پاکستانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں پٹھان کوٹ کے ایئر بیس پر حملے کی مذمت کی ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق بھارتی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے اس واقعے پر اظہار افسوس بھی کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے اور پاکستان خطے میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے پر عزم ہے۔
بھارتی فضائیہ کا یہ ایئر بیس بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کو جانے والی شاہراہ پر دہلی سے 430 کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کی فضا دوبارہ ساز گار ہوئی ہے اور بھارتی وزیرِ اعظم نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کے لیے پاکستان کا مختصر دورہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہIAF
دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجوئے مجمدار کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے لیکن پاکستان میں موجود کمشمیری جنگجوؤں پر اس بارے میں شبہہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ میرا خیال ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے ہے۔‘
خیال رہے کہ شدت پسند گروپ جیش محمد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کی مخالفت کرتا ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ جیشِ محمد کو پاکستان کی حمایت حاصل ہے جس کی پاکستان تردید کرتا ہے۔
اس سے قبل ڈسٹرکٹ پولیس آفسر نے کہا تھا کہ مسلح افراد کے حملے میں لڑاکا فوجی طیاروں کو نقصا نہیں پہنچا اور سکیورٹی فورسز حملہ آوروں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔







