امریکی جہاز کے قریب ایرانی راکٹ کا ’اشتعال انگیز‘ تجربہ

،تصویر کا ذریعہAP
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی اور دیگر کمرشل جہازوں کے قریب راکٹ کے تجربات کیے ہیں۔
ایران کی جانب سے کیے جانے والے اس ٹیسٹ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان نیا تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔
<link type="page"><caption> آبنائے ہرمز کی بندش،دھمکی پر امریکی تنبیہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/12/111229_us_iran_oil_route_zs" platform="highweb"/></link>
امریکہ کے فوجی ترجمان کائل رینز کا کہنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں دو امریکی اور ایک فرانسیسی جنگی جہازوں کے نزدیک ’متعدد راکٹ داغے۔‘
امریکی فوجی ترجمان نے ایران کی جانب سے کیے جانے والے ان تجربات کو ’انتہائی اشتعال انگیزی‘ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور اومان کے درمیان ایک تنگ بحری راستہ ہے جو سمندر کے راستے خام تیل کی تجارت کرنے والے تقریباً ایک تہائی ممالک کو ایک راستہ فراہم کرتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آبنائے ہرمز خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے والی کشتیوں کے گزرنے کا بھی ایک اہم راستہ ہے۔
خیال رہے کہ ایران نے سنہ 2012 میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔
امریکہ کے مطابق ایران کی جانب سے کی جانے والی تازہ ترین کارروائی کا واقعہ سنیچر کو پیش آیا۔
ادھر ایرانی اہلکاروں اور میڈیا نے ان خبروں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ایرانی بحری جہازوں نے میری ٹائم ریڈیو پر راکٹ ٹیسٹ کے تجربات کرنے سے 23 منٹ قبل اس بات کا اعلان کیا تھا۔
امریکہ کے فوجی ترجمان کائل رینز کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے راکٹ اتحادی کشتیوں کے بہت قریب سے گزرے۔
امریکی نیوی کی پانچویں فلیٹ قریبی ملک بحرین میں موجود ہے۔ یہ خلیج میں انسدادِ قذاقی گشت اور ایران کے علاقائی کاؤنٹر بیلنس کے طور پر کام کرتی ہے۔
اپریل سنہ 1988 میں ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز میں ہونے والی لڑائی میں امریکہ نے حملہ کر کے چھ ایرانی جہازوں کو ڈبویا یا نقصان پہنچایا تھا۔







