دہلی ریپ کا نابالغ مجرم رہا، احتجاجی مظاہرین حراست میں

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں تین سال قبل چلتی ہوئی بس میں ہونے والے گینگ ریپ کے نابالغ مجرم کے وکلا کا کہنا ہے کہ اسے اب اصلاح خانے سے رہا کر دیا گیاہے۔
قانونی مسائل بھی اس کی رہائی کو نہ روک سکے۔ بعد میں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کے والدین کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
مجرم کو اگست سنہ 2013 میں ایک اصلاح خانے میں تین سال گزارنے کی سزا سنائی گئی تھی۔
تین سال قبل پیش ہونے والے واقعے کے وقت مجرم نابالغ تھا اس لیے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی ہے۔
ریپ اور اس کے بعد لڑکی کی موت پر پوری دنیا میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
اگرچہ مجرم اب بالغ ہو چکا ہے لیکن اس پر مقدمہ نابالغ کے طور پر ہی چلایا گیا تھا اور اس نے اپنی پوری سزا بھی مکمل کر لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty
اس مقدمے میں ملوث چار مجرم اپنی اپنی موت کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں کر رہے ہیں جبکہ پانچویں نے مبینہ طور پر جیل میں خود کشی کر لی تھی۔
دلی میں بی بی سی کے سنجوئے مجمدر کہتے ہیں کہ مجرم کی رہائی کی بہت مخالفت کی گئی ہے جس میں متاثرہ لڑکی کے والدین بھی شامل ہیں۔
انھیں اتوار کو پہلے مرکزی دلی میں احتجاجی ریلی نکالنے سے روکا گیا اور بعد میں جب وہ انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج کرنے والے دیگر افراد کے ہمراہ اکٹھے ہوئے تو پولیس نے انھیں حراست میں لے لیا۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ مجرم کی شناخت بدلی جا رہی اور عوامی سطح پر کسی بھی ریکارڈ میں ان کا نام اور جرم نہیں رہے گا۔ اس اقدام پر انڈیا میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔
اس کی رہائی روکنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تاہم موجودہ قانون کے تحت نابالغ مجرم کو دوسرا موقع دیا جا رہا ہے۔
مجرم کی سلامتی پر لاحق خطرے کی وجہ سے اسے ایک غیر سرکاری تنظیم کے حوالے کر دیا گیا ہے جہاں وہ اب رہے گا۔
اسی دوران دہلی خواتین کمیشن کی صدر سواتی ماليوال نے ٹویٹ کیا تھا کہ انھوں نے جووینائل جسٹس بورڈ کو خط لکھ کر کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں ان کی درخواست پر کل سماعت ہونی ہے تو سنہ 2012 کے دہلی گینگ ریپ معاملے میں قصور وار پائے جانے والے نابالغ لڑکے کو نہ چھوڑا جائے۔
خیال رہے کہ ہفتہ کو رات گئے تک دہلی خواتین کمیشن کی صدر بھارت کے چیف جسٹس کے گھر پہنچیں اور گینگ ریپ کے نابالغ مجرم کی رہائی کو روکنے کے لیے درخواست دائر کی جس پر پیر کو سماعت ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جبکہ متاثر لڑکی نربھیا کا خاندان نابالغ مجرم کو بھی موت کی سزا دیے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نابالغ مجرم کو اصلاح خانے سے نامعلوم مقام کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق نابالغ مجرم کے اہل خانہ اسے واپس لینے سے ہچکچا رہے ہیں اور وہ مجرم سزا کاٹ کر جیل سے باہر آنے سے خوفزدہ ہے۔
اس کے اہل خانہ نے بھی اس کے لیے سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا تھا۔
جووینائل جسٹس بورڈ (جےجےبي) کے مطابق دسمبر سنہ 2012 میں ریپ کے وقت نابالغ مجرم تقریباً 17 سال کا تھا۔
جبکہ 28 جنوری سنہ 2013 کو اپنے فیصلے میں جےجےبی نے نابالغ کو بالغ تسلیم کر کے مقدمہ چلانے سے انکار کر دیا تھا۔
31 اگست سنہ 2013 کو نابالغ مجرم کو ریپ اور قتل کا قصور وار قرار دیتے ہوئے قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ تین سال کی سزا دی گئی تھی۔







