بچوں کے جنسی استحصال پر چُپ توڑنے کی کوشش

اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر تین گھنٹے پر بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی ہوتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر تین گھنٹے پر بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی ہوتی ہے

دنیا بھر میں جنسی استحصال کا شکار بچوں کی سب سے بڑی تعداد بھارت میں رہتی ہے۔ جبکہ جمعے کو ایک سرکردہ نیوز اینکر خاتون نے بتایا کہ کس طرح بچپن میں ان کا استحصال ہوا تھا۔ بہر حال اس بارے میں بات چیت کرنے میں عام طور پر ہچکچاہٹ اور پردہ داری نظر آتی ہے۔ لیکن ایک رکن پارلیمان راجیو چندر شیکھر اس میں تبدیلی لانے کے لیے کوشاں ہیں۔

بی بی سی کی گیتا پانڈے بتاتی ہیں کہ دہلی میں ایک ’اوپن ہاؤس‘ تقریب کے دوران مسٹر چندر شیکھر نے کہا کہ ’ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے بچوں کے جنسی استحصال کے بارے میں بات کرنے کی ابتدا کرنی ہوگی کیونکہ یہ وبائی صورت اختیار کر چکا ہے۔‘

انھوں نے کہا ’بھارت میں بچوں کا جنسی استحصال وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو رازداری اور انکار کی تہذیب کی چادر میں لپٹا ہوا ہے اور حکومت کی بے حسی میں پروان چڑھ رہا ہے۔‘

ایک رکن پارلیمان نے بچوں کے جنسی استحصال پر خاموشی کو توڑنے کا بیڑا اٹھایا ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنایک رکن پارلیمان نے بچوں کے جنسی استحصال پر خاموشی کو توڑنے کا بیڑا اٹھایا ہے

’بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بچوں کا جنسی استحصال اس قدر وسیع پیمانے پر نہیں ہے جیسا کہ میں کہہ رہا ہوں لیکن اعداد و شمار اس کے برعکس ہیں۔‘

سنہ 2007 کے ایک مطالعے کے مطابق جتنے بچوں کا سروے کیا گیا تھا ان میں سے 53 فی صد بچوں نے بتایا کہ انھیں کسی نہ کسی قسم کی جنسی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

یہ سروے بھارت میں خواتین اور بچوں کی بہبود کی وزارت نے کرایا تھا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ لڑکیوں کا استحصال ہوتا ہے لیکن در حقیقت لڑکوں کو بھی اتنا ہی خطرہ ہے۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنسی استحصال کرنے والوں میں ’معتمد اور نگراں‘ ہوتے ہیں جن میں والدین، رشتے دار اور استاد شامل ہیں۔

جنوبی ہند کے بنگلور شہر کے ایم پی مسٹر چندرشیکھر نے بچوں کے جنسی استحصال پر جنوری سنہ 2014 سے بات کرنے کی ابتدا کی جب ایک ماں ان کے پاس آئی کہ ان کی تین سالہ بچی کا سکول میں ریپ کیا گيا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف لڑکی ہی نہیں بلکہ لڑکوں کو بھی اسی قدر خطرہ لاحق ہے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف لڑکی ہی نہیں بلکہ لڑکوں کو بھی اسی قدر خطرہ لاحق ہے

چندر شیکھر نے بتایا ’انھوں نے مجھ سے مدد طلب کی کیونکہ پولیس ان کا کیس درج نہیں کر رہی تھی۔ میں خوفزدہ رہ گیا۔ جب میں نے ایک ریاستی حکومت کے وزیر کو فون کیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ہماری غلطی نہیں ہے یہ والدین کی غلطی ہے۔ کس نے انھیں اس سکول کو منتخب کرنے کے لیے کہا تھا۔‘

اس کے بعد سے دہلی اور بنگلور سمیت پورے بھارت میں ریپ کے کئی بڑے معاملے سامنے آئے۔ جہاں ہر تین گھنٹے پر کسی نہ کسی بچے اور بچی کے ساتھ جنسی بدسلوکی ہوتی ہو وہاں یہ کوئی جائے حیرت نہیں۔

اس پر خاموشی کا قفل کھولنے کے لیے مسٹر چندر شیکھر نے ستمبر سنہ 2014 میں چینج ڈاٹ او آر جی پر پیٹیشن کی ابتدا کی اور وزیر اعظم نریندر مودی سے ’بچوں کے تحفظ کو ترجیحات میں شامل کرنے اور بچوں کو جنسی زیادتیوں سے بچانے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کا عہد لیا۔‘

منگل کو انھوں نے خواتین اور اطفال کے بہبود کی وزیر مینکا گاندھی سے ملاقات کی اور انھیں وہ پٹیشن دی جس پر ایک لاکھ 82 ہزار لوگوں کے دستخط ہیں۔

بہر حال مسٹر شیکھر کی بات بہت سے لوگوں ک پسند نہیں آئی ہے اور سوشل میڈیا پر انھیں ’بھارت کو بدنام کرنے کی مغربی ممالک کی سازش کا حصہ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

بچوں کا استحصال کرنے والوں میں معتمد اور نگراں زیادہ ہوتے ہیں
،تصویر کا کیپشنبچوں کا استحصال کرنے والوں میں معتمد اور نگراں زیادہ ہوتے ہیں

بچوں کے استحصال کے خلاف تحریک میں شامل افراد کا کہنا ہے کہ اس لڑائي میں یہ بڑے رخنے ہیں۔ ایک رفاہی ادارے راہی کی سربراہ انجو گپتا کا کہنا ہے کہ عام طور پر والدین ہی بدسلوکی کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کسی رشتے دار کے ذریعے جنسی طور پر استحصال کی رپورٹ ہی نہیں کی جاتی۔

انجو گپتا نے اسے ’خامشی کی سازش‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے نیا قانون بنا لیکن اس کے تحت دو سال بعد پہلا کیس درج ہوا۔ سنہ 2014 میں نئے پاسکو قانون کے تحت 8904 معاملے درج کیے گئے لیکن اسی سال نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے 13766 بچوں کے ریپ، 11335 لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے، 4593 لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کی جانے، 711 لڑکیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کے کپڑے اتارنے، شہوت نظری کے 88 معاملے اور پیچھا کرنے کے 1091 معاملے کے ریکارڈ پیش کیے۔