بھارت: کلاس فیلو سے مبینہ گینگ ریپ کے الزام میں چار لڑکے گرفتار

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کے شہر ممبئی میں پولیس نے اپنی ہم جماعت طالبہ کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کرنے کے الزام میں چار طلبا کو حراست میں لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے سکول کے طلبا کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان ہیں اور انھوں نے طالبہ کے ساتھ ریپ کی ویڈیو بنانے کے بعد اُسے سوشل میڈیا پر جاری کیا۔
زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی اور اس واقعے میں ملوث لڑکے ایک ہی علاقے میں رہتے ہیں اور وہ پڑھائی کے لیے ایک دوسرے کے گھروں پر آتے جاتے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نابالغ لڑکوں کو حراست میں لیے جانے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد انھیں بچوں کے اصلاحی مرکز (نابالغوں کی جیل) بھیجوایا گیا ہے اور وہاں اُن سے مزید تحقیقات ہوں گی۔
پولیس آفسر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ لڑکی کے ساتھ ریپ 8 نومبر کو کیا گیا جس کے بعد انھیں کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
پولیس آفسر کے مطابق ’ایک ملزم نے لڑکی کو فون کر کے اپنے گھر یہ کہہ کر بلایا کہ اُسے پڑھائی میں کچھ مدد چاہیے۔ جب وہ وہاں پہنچی تو اُس نے دوستوں کے ساتھ مل کر اُسے ریپ کیا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’لڑکوں نے متاثرہ لڑکی کو دھمکی دی کہ وہ اُس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کر دیں گے۔ اُسی کئی بار حواس کا نشانہ بنایا اور بعد میں ویڈیو وٹس ایپ پر جاری کر دی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متاثرہ لڑکی کے والد فوت ہو گئے ہیں اور اُن کی والدہ بیرون ملک ملازمت کرتی ہیں اور وہ اپنی بہن، خالہ اور نانی کے ساتھ رہتی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ریپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کی گئی اور متاثرہ لڑکی کی خالہ نے ویڈیو دیکھنے کے بعد لڑکی سے پوچھا تو ان سے سارے واقع بتایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
دہلی میں ایک بس میں لڑکی کو زیادتی کے بعد ہلاک کرنے کے واقعے میں نابالغ ملزمان کو سزا دینے یا نہ دینے کا معاملے پر بہت بحث ہوئی تھی۔ بھارت میں جنسی زیادتی کے قانون میں نابالغ ملزمان کو سزا سے متعلق عوامی سطح پر کافی تبصرے ہوئے تھے۔







