بھارت: ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکالنے کی کوشش ناکام

 بھارت میں ہم جنس پرستی ممنوع ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن بھارت میں ہم جنس پرستی ممنوع ہے

بھارت میں پارلیمان کے ایک رکن کی جانب سے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال دینے کے مسودۂ قانون کو متعارف کروانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

ششی تھرور نے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قانون ہم جنس پرستوں کے ’بنیادی حقوق کی خلاف ورزی‘ کرتا ہے۔

انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کروانے کے لیے ’مستقبل میں پھر کوشش کریں گے۔‘

ششی تھرور نے اس سے پہلے ویب سائٹ ’کونٹ‘ پر لکھا تھا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم تعزیرات ہند کو21ویں صدی میں لے آئیں۔‘

انھوں نے لکھا تھا کہ ’تعزیرات ہند میں دفعہ 377 کی منظوری سنہ 1860 میں دی گئی تھی اور اس کے مطابق ’خلافِ قدرت قائم کیے جانے والے جنسی تعلقات‘ کو مجرمانہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ لفظ اتنا فرسودہ ہے کہ کئی جدید معاشرے اس کا مذاق اڑائیں گے۔‘

نوآبادیاتی دور کے اس 153 سالہ قانون کے تحت ہم جنس پرستی ایک ’غَیر فِطری جرم‘ ہے اور ’مجرموں‘ کو دس سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ششی تھرور نے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشنششی تھرور نے تعزیرات ہند کی دفعہ 377 میں ترمیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار اس قانون کے غلط استعمال سے اکثر ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرتے ہیں۔

سنہ 2009 میں نئی دلی ہائی کورٹ نے اس انتہائی حساس موضوع پر تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 377 سے مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

لیکن سنہ 2013 میں بھارت کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو دوبارہ جرم کے زمرے میں شامل کر دیا تھا جس کے بعد دنیا بھر سے ملک کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے لڑنے والے سرگرم کارکن مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ بھارت میں ارکان پارلیمان کو اس قانون میں ترمیم کرنی چاہیے لیکن اب تک اس معاملے پر کوئی خاص نظر نہیں ڈالی گئی ہے۔

بھارت ایک انتہائی قدامت پسند ملک ہے جہاں ہم جنس پرستی ممنوع ہے اور کئی لوگ اسے ناجائز سمجھتے ہیں۔