ہم جنس پرستی جرم ہی رہے گی: بھارتی سپریم کورٹ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارت کی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے میں شامل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ تعزیراتِ ہند کی دفعہ 377 کے تحت ملک میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے اور دہلی ہائی کورٹ نے اسے جرم کے زمرے سے نکال کر غلطی کی تھی۔
وفاقی حکومت اور ناز فاؤنڈیشن سمیت کئی غیر سرکاری تنظیموں نےاس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی پٹیشن دائر کی تھی لیکن عدالت نے پٹیشنوں کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ اس فیصلے میں مداخلت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
بھارت میں ایڈز کی روک تھام اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ناز فاؤنڈیشن کی سربراہ انجلی گوپالن نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔
درخواست گزاروں کے ایک وکیل آنند گروور نے کہا: ’نظر ثانی پٹیشنیں شاذ ونادر ہی کامیاب ہوتی ہیں پھر بھی ایک امید تھی، وہ صرف ایک محاذ پر لڑائی ہارے ہیں لیکن جنگ جاری رہے گی۔‘
اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کے سامنے اب صرف دو راستے باقی رہ جاتے ہیں یا تو سپریم کورٹ میں’کیوریٹو’ پٹیشن دائر کیا جائے یا حکومت دستور میں ترمیم کرے جو بہت لمبا اور پیچیدہ عمل ہے۔
نئی دہلی ہائی کورٹ نے سنہ 2009 میں اس انتہائی حساس موضوع پر تاریخ ساز فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 377 سے مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ اس دفعہ کے تحت ایک ہی جنس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان جسمانی تعلقات کو جرم قرار دیا گیا ہے۔
اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستوں کو ہراساں کرنےکے لیے پولیس اس کا غلط استعمال کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہائی کورٹ نے بھی ان کے اس موقف سے اتفاق کیا تھاکہ اگر دو بالغ اپنی مرضی سے کسی جنسی عمل میں شریک ہوتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے جس سے عدالت اور قانون کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو ہندو، عیسائی اور مسلم مذہبی تنظیموں نے چیلنج کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ہم جنس پرستی غیر فطری عمل ہے اور اسے جرم کے زمرے میں ہی شامل رہنا چاہیے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دسمبر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور غیر معمولی طور پر کانگریس کی اعلیٰ ترین قیادت، اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے بھی کھل کر اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔
وزیرِقانون کپل سبل نے کہا تھا کہ اکیسویں صدی میں اس قانون کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، جس کے بعد یہ قیاس آرائی بھی شروع ہوئی تھی کہ حکومت ہم جنس پرستوں کے خدشات دور کرنے کے لیے آرڈیننس بھی جاری کر سکتی ہے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والوں میں مسلم پرسنل لا بورڈ بھی شامل تھا جس کے اعلیٰ عہدیدار ظفریاب جیلانی نے کہا کہ عدالت نے سماجی اقدار کا تحفظ کیا ہے اور فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کےبعد سے ہی یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومت آئین میں ترمیم کرے۔ لیکن اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت ہے جو فی الحال ممکن نظر نہیں آتا، کیونکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت بی جے پی ترمیم کے حق میں نہیں ہے اور پارلیمانی انتخابات سے ذرا پہلے وہ اپنے ان ووٹروں کو ناراض نہیں کرنا چاہے گی جو سپریم کورٹ کے فیصلے کو درست مانتے ہیں۔







