’نریندر مودی بزدل اور نفسیاتی مریض ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارت کے دارالحکومت دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی نے ان کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔
کیجریوال نے ایک ٹویٹ میں اس چھاپے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور انھیں ’بزدل اور نفسیاتی مریض‘ کہا ہے۔
دوسری جانب سی بی آئی نے اس سے انکار کیا ہے۔ سی بی آئی کے ترجمان دیوپريت سنگھ نے کہا ہے کہ کیجریوال کے دفتر پر نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری راجندر کمار کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔
تاہم سی بی آئی کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ ’سی بی آئی جھوٹ بول رہی ہے۔‘

انھوں نے لکھا ہے کہ ’میرے دفتر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ راجندر کے بہانے وزیر اعلیٰ کے دفتر کی فائلوں کو دیکھا جا رہا ہے۔ مودی جی بتائیں کہ وہ کون سی فائل چاہتے ہیں؟‘
کیجریوال نے لکھا ہے کہ ’مودی جب سیاسی طور پر میرا مقابلہ نہیں کر پا رہے ہیں تو وہ اس طرح کی بزدلی پر اتر آئے ہیں۔‘
منگل کی صبح سے وزیر اعلیٰ کے دفتر میں موجود حکام کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
عام آدمی پارٹی کے ترجمان سوربھ بھاردواج نے اس چھاپے کو نفرت انگیز عمل قرار دیا ہے۔ ایک بھارتی ٹی وی چینل سے بات چیت میں بھاردواج نے کہا کہ ’مودی پر ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا الزام ہے لیکن ان کے دفتر پر کبھی چھاپہ نہیں مارا گیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما وینکیا نائیڈو نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’سی بی آئی ایک آزاد ادارہ ہے اور مرکزی حکومت سی بی آئی کی نگرانی نہیں کرتی۔‘
نائیڈو نے کہا کہ کیجریوال نے ہر چیز کے لیے مرکزی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کا فیشن بنا لیا ہے۔
عام آدمی پارٹی کے سینیئر رہنما کمار وشواس نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بہار میں بی جے پی کو سبق سکھایا ہے اور اب پنجاب اور بنگال میں انھیں سبق سكھائےگي۔







