کیجریوال کا پلِ صراط

کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو تاریخی جیت حاصل ہوئي ہے
،تصویر کا کیپشنکیجریوال کی عام آدمی پارٹی کو تاریخی جیت حاصل ہوئي ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نےدہلی پر قبضہ تو کر لیا لیکن ان کی اصل آزمائش اب شروع ہو گی اور ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ وفاقی حکومت سے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیے بغیر حکومت کیسے چلائی جائے۔

یہ کام آسان نہیں ہو گا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور اروند کیجریوال میں غیرمعمولی شخصی مماثلت بھی ہے۔

جس طرح اس وقت نریندر مودی بی جے پی کا واحد چہرہ بنے ہوئے ہیں اسی طرح عام آدمی پارٹی بھی صرف اروند کیجریوال کے اردگرد گھومتی ہے۔ دونوں کے سیاسی نظریات تو بالکل مختلف ہیں لیکن کام کرنے کا انداز نہیں۔ دونوں زیادہ صبر سے کام لینے میں یقین نہیں رکھتے، ضابطوں کی زیادہ پروا نہیں کرتے اور جب ایک مرتبہ کسی بات پر اڑ جائیں تو آسانی سے پیچھے ہٹنا پسند نہیں کرتے۔

گذشتہ برس جب اروند کیجریوال وزیر اعلیٰ بنے تھے تو ایک تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ ان کی ضد ان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑی کمزوری بھی۔

اسی ضد کی وجہ سے ہی وہ عام آدمی پارٹی کو اقتدار تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن جب یہ ضد ’میں جو کہہ رہا ہوں وہ ہی صحیح ہے‘ کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ ان کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔

بی جے پی کو اس قسم کی شکست ہوگی ایسی کسی کو امید نہیں تھی

،تصویر کا ذریعہBBC Hindi

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کو اس قسم کی شکست ہوگی ایسی کسی کو امید نہیں تھی

اسی وجہ سے صرف ایک سال کے عرصے میں ان کے کئی قریبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔ شازیہ علمی پارٹی کا واحد مسلمان چہرہ تھیں وہ ناراض ہوکر بی جے پی میں چلی گئیں۔ یوگیندر یادو پارٹی کی بنیاد ڈالنے والے اور اسے نظریاتی سمت دینے والے اہم ترین رہنماؤں میں شامل تھے لیکن چند ماہ قبل انھوں نے کیجریوال پر پارٹی کو ایک ’سپریمو‘ کی طرح چلانے کا الزام لگایا تھا اور ہندی کے شاعر کمار وشواس بھی پارلیمانی انتخابات کے بعد سے ناراض ہیں۔

اسی طرح سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن بھی اب اتنے سرگرم نہیں ہیں جتنے چند ماہ پہلے تک ہوا کرتے تھے۔

ان سبھی رہنماؤں نے بالواسطہ یا براہ راست دو بنیادی الزام لگائے ہیں: ’پارٹی جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کا دعوی تو کرتی ہے لیکن خود ان پر عمل نہیں کرتی اور تمام فیصلے کیجریوال اور ان کے چند مخصوص ساتھیوں کا ایک گروپ کرتا ہے۔‘

لیکن اس الیکشن میں کیجریوال کچھ بدلے ہوئے نظر آئے۔ مثال کے طور پر انھوں نےوہ زبان استعمال نہیں کی جو پہلے الیکشن میں کھل کر بولی جا رہی تھی: ’تمام سیاستدان چور یا بے ایمان ہیں، غدار ہیں۔۔۔ہم سے صاف شفاف کوئی نہیں۔‘

کیجریوال نے دہلی کی عوام سے بہت سے وعدے کر رکھے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکیجریوال نے دہلی کی عوام سے بہت سے وعدے کر رکھے ہیں

اس مرتبہ بھی انھوں نے اپنے انتخابی منشور میں بڑے بڑے وعدے کیے ہیں لیکن کسی ڈیڈلائن کا اعلان نہیں کیا ہے، اس لیے ہوسکتا ہے کہ وعدوں کو عملی شکل دینے میں اس طرح کی جلدبازی نہ دکھائی جائے جیسی گذشتہ برس نظر آئی تھی۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ جو وعدے انھوں نے کیے ہیں انھیں پورا کرنے کے لیے پیسے کہاں سے آئيں گے تو مسلسل ان کا جواب تھا کہ اگر بدعنوانی پر قابو پا لیا جائے تو پھر پیسے کی کمی نہیں ہو گی۔

انتخابی مہم کے دوران تو یہ جواب چلتا ہے، لوگ خوش بھی ہوتے ہیں، لیکن جب بڑے پروجیکٹوں پر عمل درآمد کا وقت آئے گا اور سرمائے کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت سے تعلقات ہی کام آئیں گے۔

اس لیے کیجریوال کو یہ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے کہ کیا وہ نریندر مودی کی حکومت سے مستقل محاذ آرائی کی پالیسی اختیار کریں گے، جیسا انھوں نے کانگریس کے خلاف کی تھی، یا مشروط یا محدود پیمانے پر تعاون کی پالیسی؟

مختصر یہ کہ کیا وہ حزب اختلاف کے رہنما سے حکمراں تک کا سفر کامیابی کے ساتھ طے کر پائیں گے یا نہیں؟ کیا وہ پھر اپنی سادگی ثابت کرنے کے لیے ’چھوٹی گاڑی، چھوٹے گھر یا میٹرو سے سفر‘ کی بحث میں پڑیں گے یا پھر انھوں نے گذشتہ برس کی اس علامتی اور بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق غیر ضروری بحث سے کچھ سبق سیکھا ہے؟

اس انتخابی نتیجے کے بعد بی جے پی کے حامیوں میں مایوسی نظر آئی ہے
،تصویر کا کیپشناس انتخابی نتیجے کے بعد بی جے پی کے حامیوں میں مایوسی نظر آئی ہے

حکومت میں آنے کے بعد حکمرانوں کی زبان بدل جاتی ہے، نریندر مودی اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ وہ بہت بڑے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، صرف نو مہینوں میں بہت سے غریب بدظن ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اروند کیجریوال کی کامیابی کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

کیجریوال نے بھی عوام سے صاف شفاف سیاست کا وعدہ کیا ہے، کچے مکانوں کو پکے میں بدلنے کا وعدہ، نئے سکول کالجوں کی تعمیر کا وعدہ، سستی بجلی اور مفت پانی کا وعدہ۔۔۔ عام آدمی نے اس مرتبہ عام آدمی پارٹی پر اعتماد کیا ہے، اور جیسا ہمیشہ ہوتا ہے پہلے وہ انتظار کرے گا اور پھر سوال۔

اروند کیجریوال کو پل صراط سے گزرنا ہوگا اور آج سے ان کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی۔