کیجریوال سے مودی کو گھبراہٹ کیوں؟

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق دہلی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹروں میں عام آدمی پارٹی کے لیے زیادہ جوش نظر آ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہمارے نامہ نگاروں کے مطابق دہلی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹروں میں عام آدمی پارٹی کے لیے زیادہ جوش نظر آ رہا ہے
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی 70 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔

ان انتخابات کو وزیر اعظم مودی کی مقبولیت کا پہلا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

نئی دہلی میں مودی اور ان کی جماعت بی جے پی کو ایک سابق ٹیکس افسر اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کا سامنا ہے۔

دہلی کا یہ انتخاب وزیر اعظم مودی کے لیے کتنا اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خود انھوں نے انتخابی مہم کی قیادت کی۔

بی جے پی نے وزیر اعلی کے عہدے کے لیے پارٹی کے باہر سے ایک سابق پولیس افسر کرن بیدی کو اپنا امیدوار بنایا۔

امیدوراروں کا انتخاب پارٹی کے صدر امت شاہ کی سربراہی میں کیا گیا۔ غالبا بھارت کی تاریخ کا یہ پہلا ریاستی انتخاب ہے جب کسی جماعت کے سوا سو سے زیادہ ارکان پارلیمان اور وزیر اعظم سمیت ایک درجن سے زیادہ مرکزی وزرا نے انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا ہو۔

نئی دہلی کے گذشتہ انتخابات میں بدعنوانی کے خلاف تحریک سے وجود میں آنے والی جماعت عام آدمی پارٹی نے حیرت انگیز طور پر بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور اروند کیجریوال دہلی کے وزیر اعلی بنے تھے لیکن حکومت سازی کے لیے پوری اکثریت نہ ہونے کے سبب دو مہینے کے اندر کیجریوال کی حکومت کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

دہلی ریاستی انتخابات میں کانگریس کا زور نظر نہیں آ رہا ہے اور مقابلہ براہ راست عام آدمی پارٹی اور بی جے پی میں بتایا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشندہلی ریاستی انتخابات میں کانگریس کا زور نظر نہیں آ رہا ہے اور مقابلہ براہ راست عام آدمی پارٹی اور بی جے پی میں بتایا جا رہا ہے

لوک سبھا کے انتخابات میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور مودی کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی۔

ملک کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس ان انتخابات میں شکست سے دو چار ہوئی اور اس وقت وہ بھارت کی سیاست میں پوری طرح پس منظر میں چلی گئی ہے اور اسے واپس آنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

نریندر مودی کے لیے بھارت میں ہر طرح کی مخا لفت ختم ہو چکی تھی اور پارٹی اور حکومت پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔

بھارتی میڈیا ان کے ساتھ ہے وہ ترقی اور ایک بہتر نطام کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے اور عوام کو بہت ساری امیدیں دلائیں۔

لیکن آٹھ مہینے گزرنے کے بعد بھی زمین پر کسی بڑی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

روز مرہ کی اشیا کے دام پچھلے برس کے مقابلے کافی بڑھ چکے ہیں۔ جس بد عنوانی کے خاتمے اور غیر ممالک سے کالے دھن کی واپسی کے وعدے انھوں نے کیے تھے اس سمت کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔

اگر بی جے پی نے گذشتہ انتخابات میں کامیابی کی بلندیوں کو چھوا ہے تو عام ‏آدمی پارٹی دہلی کے ووٹروں کے پاس گئی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناگر بی جے پی نے گذشتہ انتخابات میں کامیابی کی بلندیوں کو چھوا ہے تو عام ‏آدمی پارٹی دہلی کے ووٹروں کے پاس گئی ہے

پچھلے آٹھ مہینے میں جہاں مودی اور ان کے قریبی اپنی ایک کے بعد ایک کامیابی پر سرشار ہوتے رہے وہیں کیجریوال کی عام آدمی پارٹی گراؤنڈ پر عام آدمی کے درمیان خاموشی سے کام کرتی رہی۔

تنطیمی سطح پر جو کمیاں تھیں اسے اس نے دور کرنے کی کوشش کی، سیاسی سطح پر نہ تجربہ کاری کا جو پہلو تھا اسے سمجھنے کی کوشش کی گئی اور اس بار جب وہ نئی دہلی کے انتخاب میں اتری تو وہ مودی اور ان کی جماعت کے لیے ایک زبردست چیلنج بن گئی۔ ملک کی تاریخ میں غالبـا یہ پہلا انتخاب ہے جو اقتصادی اور طبقاتی بنیاد پر لڑا جا رہا ہے۔

انتخابات کے نتائج 10 فروری یعنی منگل کوآئیں گے۔ اگر ان انتخابات میں بی جے پی کی جیت ہوتی ہے تو مودی ایک اطمینان بخش اور آرام دہ سیاسی حال میں ہوں گے جس میں وہ اپنی مرضی کے مالک ہوں گے لیکن اگر نئی دہلی میں فتح عام آدمی پارٹی کی ہوئی تو یہ مودی کے لیے ذاتی طورپر سبکی کا سبب ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بھی ہوگی۔

نئی دہلی میں عام آدمی پارٹی کی جیت بھارت میں ایک نئی سیاست کا آغاز بن سکتی ہے۔