کیا کرن بیدی تُرپ کا پتہ ثابت ہوں گی؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی پولیس سے ریٹائر ہو کر سیاست میں قدم رکھنے والی کرن بیدی سنیچر کو دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کی امیدوار ہیں۔
بی بی سی کی گیتا پانڈے نے ان کی کامیابی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ان کی انتخابی مہم میں ان کے ہمراہ سفر کیا۔
فروری کی گرم سہ پہر جب کرن بیدی دہلی کے قلب میں کناٹ پلیس سے اپنی انتخابی مہم کے لیے روانہ ہوئیں تو ان کے ہمراہ ڈھول بجانے اور لوک رقص کرنے والے افراد کے علاوہ ان کے حامی چند سو پر جوش نوجوان بھی موجود تھے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران نئی دہلی کے ڈھانچے کو بدل کر اسے ایک ’ورلڈ کلاس شہر‘ کے ساتھ خواتین کے لیے محفوظ شہر بنانے کا وعدہ کیا ہے۔
کرن بیدی نے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے حامیوں سے کہا ’یہ لڑائی سچ اور جھوٹ کے درمیان ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
’میں پولیس، استغاثہ، والدین اور اساتذہ کو خواتین کے ساتھ ہونے والے جرائم کے خلاف لڑنے کے لیے متحد کروں گی۔ میں اس مقصد کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ محنت بھی کروں گی۔‘
خیال رہے کہ نئی دہلی حالیہ برسوں میں متعدد ریپ کیسوں کے حوالے سے زیادہ نمایاں رہا ہے۔
کرن بیدی کے متعدد حامیوں کا کہنا ہے کہ شہر کو ریپ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ان جیسی سابقہ سخت پولیس خاتون کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی کے ایک کالج کی طلبا زیبا خان کا کہنا ہے کہ کرن بیدی اچھی انسان ہیں اور خواتین کے تحفظ کو بہتر بنانے کےلیے کام کریں گی اور اسی لیے میں انھیں ووٹ دوں گی۔
65 سالہ کرن بیدی انتخابی مہم میں بہت زیادہ مصروف ہیں، وہ ہر روز پورے شہروں میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بھارت کی پہلی خاتون پولیس افسر اور مجرموں کے خلاف سخت رویہ رکھنے کے طور پر مشہور کرن بیدی کو صدر کی جانب سے پولیس بہادری کا تمغہ بھی دیا جا چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرن بیدی نے بھارت کی سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی گاڑی کو غلط پارکنگ پر ایک کرین کی مدد سے ہٹا دیا تھا۔
بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امیت شاہ نے تین ہفتے قبل کرن بیدی کو اپنی پارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا امیدوار نامزد کیا۔
نئی دہلی میں سنیچر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی کی حکمتِ عملی ان کے منصوبےکے مطابق نہیں جا رہی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
بی جے پی کو ان انتخابات میں بد عنوانی کے خلاف کام کرنے والے نئی دہلی کے سابق وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال کی جماعت عام آدمی پارٹی سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ سماجی کارکن انا ہزارے کی قیادت میں بدعنوانی مخالف مہم کے دوران یہ دونوں رہنما کیجریوال اور کرن بیدی ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے تھے۔
بی جے پی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ کی نامزدگی حاصل کرنے کے فوراً بعد ان کے مخالف اروند کیجریوال نے کرن بیدی کو مباحثے کا چیلنج دیا جسے انھوں نے مسترد کر دیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ کرن بیدی نے مباحثے سے اس لیے اجتناب برتا کیونکہ وہ عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال سے مباحثے میں مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
نئی دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل کیے جانے والے تقریباً تمام جائزوں کے مطابق عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال کے جیتنے کی امید ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے کرن بیدی کو ان انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجروال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کم کرنےکے لیے میدان میں اتارا ہے۔ اگر بی جے پی یہ سمجھتی ہے کرن بیدی ان کا تُرپ کا پتہ ثابت ہوں گی تو ایسا نہیں ہے۔







