کرن بیدی دہلی کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے بی جے پی کی امیدوار

،تصویر کا ذریعہPTI
بھارتیہ جنتا پارٹی نے دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل کرن بیدی کو اپنی پارٹی کی جانب سے وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار نامزد کیا ہے۔
یہ اعلان دہلی میں آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں پیر کو بی جے پی کے اہم اجلاس کے بعد پارٹی صدر امت شاہ نے کیا۔
بھارت کی پہلی خاتون آئی پی ایس افسر کرن بیدی چند روز قبل ہی بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوئی ہیں۔
دہلی کی سابق حکومت کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے بی جے پی کی جانب سے دہلی کے وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار بنائے جانے پر کرن بیدی کو مبارک باد دی ہے اور ساتھ ہی انھیں عوامی مباحثے کا چیلنج بھی دیا ہے۔
کیجریوال نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’میں کسی منصفانہ شخصیت کی نگرانی میں عوامی مباحثے کے لیے آپ کو مدعو کرتا ہوں اور اسے ہر جگہ نشر کیا جانا چاہیے۔‘
لیکن کرن بیدی نے واضح کیا ہے کہ وہ اسمبلی میں بحث کے لیے تیار ہیں ایوان کے باہر نہیں۔
عام آدمی پارٹی کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ کرن بیدی کو ’قربانی کا بکرا‘ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
کرن بیدی بی جے پی کی روایتی سیٹ كرشنانگر سے انتخاب لڑیں گي۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان انتخابات میں بی جے پی کا براہ راست عام آدمی پارٹی سے مقابلہ ہے تاہم کانگریس کو خارج نہیں کیا جا سکتا ہے۔
بی جے پی نے دہلی اسمبلی کی تمام 70 سیٹوں پر اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔
نئی دہلی اسمبلی سیٹ سے اروند کیجریوال کے خلاف نوپور شرما کو میدان میں اتارا گیا ہے جبکہ عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے ونود کمار بنني پٹپڑگنج سیٹ سے منیش سسودیا کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔
بی جے پی صدر امت شاہ نے کہا کہ پارٹی دہلی میں کرن بیدی کی قیادت میں الیکشن لڑے گی۔

،تصویر کا ذریعہBBC AP
وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار کا نامزد کیے جانے پر کرن بیدی نے بی جے پی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کرن بیدی کے نام کے اعلان کے بعد عام آدمی پارٹی کے لیڈر سومناتھ بھارتی نے کہا: ’یہ لوگ ہار کا سہرا مودي جي کے سر ڈالنا نہیں چاہتے اسی لیے انھوں نے ایک نیا قربانی کا بکرا تلاش کیا ہے۔‘
کرن بیدی کے نام کے اعلان کے بعد اب دہلی کے انتخابات کو کرن بیدی بمقابلہ اروند کیجریوال دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سماجی کارکن انا ہزارے کی قیادت میں بدعنوانی مخالف مہم کے دوران یہ دونوں رہنما کیجریوال اور کرن بیدی ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے تھے۔
دہلی میں سات فروری کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 10 فروری کو ہوگی۔







