یومِ جمہوریہ پریڈ میں صدر اوباما کی سکیورٹی کی مشکلات

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں امریکہ کے صدر براک اوباما کی آمد کی تیاریاں اس وقت زوروں پر ہیں۔
صدر اوباما بھارت کے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ انتظامیہ کی ساری توجہ حفاظتی انتظامات پر مرکوز ہے لیکن ڈھائی گھنٹے کی پریڈ کے دوران حفاظتی انتظامات دونوں ملکوں کے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہو گا۔
صدر اوباما تین روزہ دورے پر دہلی میں ہوں گے۔ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جو 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں مہمان خصوصی ہوں گے لیکن یہ پریڈ امریکی سکیورٹی اہلکاروں کے لیے تشویش پیدا کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے یوم جمہوریہ کی اپنی پہلی تقریب کو یادگار بنانے کےلیے پریڈ کی ثقافتی فلوٹس کی تعداد 20 سے بڑھا کر 25 کر دی ہے۔ اس سے پریڈ کی مدت دو گھنٹے سے بڑھ کر ڈھائی گھنٹے ہو سکتی ہے۔
امریکہ کے صدر کسی کھلی تقریب میں زیادہ سے زیادہ 45 منٹ گزارتے ہیں۔ ڈھائی گھنٹے تک کسی کھلے مقام پر صدر کا ہونا سکیورٹی اہلکاروں کے لیے حفاظتی نقطۂ نظر سے ایک مشکل مرحلہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ایوان صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان واقع وجے چوک پر جہاں بھارت کے صدر پریڈ کی سلامی لیتے ہیں وہاں صدر، وزیر اعظم اور صدر اوباما کے لیے ایک بلٹ پروف شیشے کا سٹیج بنایا جا رہا ہے۔
پریڈ کے دوران انتہائی اہم شخصیات کی حفاظت کے لیے سات تہوں کا سکیورٹی حصار ہو گا۔ امریکی سکیورٹی کے درجنوں اہلکار مقامی پولیس کے ساتھ اس وقت دہلی میں صدر اوباما کے حفاظتی انتظامات کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدر کی حفاظت کے لیے امریکہ کے 1500 سکیورٹی اہلکار پریڈ کے دوران دہلی میں تعینات ہوں گے۔
پریڈ کے راستوں کے اطراف کی تمام عمارتوں میں اور ان کی چھتوں پر کمانڈوز تعینات کردیے گئے ہیں۔ بھارت کی بین الاقوامی سرحدوں پر دراندازی روکنے کے لیے اضافی فورسز تعینات کی جا رہی ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں اس وقت انتہائی چست اور مستعد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
صدر اوباما کے دورے کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم مودی اور صدر اوباما کی ملاقات پریڈ سے ایک روز قبل 25 جنوری کو ہوگی۔ اس موقعے پر بعض سمجھوتے کیے جانے کی بھی خبر ہے۔
امریکہ نے سنہ 2002 کے گجرات فسادات کے بعد مذہبی تفریق برتنے کے الزام میں مودی کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ہی ممالک باہمی تعلقات کو اور زیادہ مستحکم کونا چاہتے ہیں۔
امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور بین اقوامی معاملا ت میں بھی دونوں ممالک اکثر ہم خیال نظر آتے ہیں۔







