یومِ جمہوریہ پریڈ میں صدر اوباما کی سکیورٹی کی مشکلات

اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم مودی اور صدر اوباما کی ملاقات 25 جنوری کو ہوگی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق وزیر اعظم مودی اور صدر اوباما کی ملاقات 25 جنوری کو ہوگی
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں امریکہ کے صدر براک اوباما کی آمد کی تیاریاں اس وقت زوروں پر ہیں۔

صدر اوباما بھارت کے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں مہمان خصوصی ہوں گے۔ انتظامیہ کی ساری توجہ حفاظتی انتظامات پر مرکوز ہے لیکن ڈھائی گھنٹے کی پریڈ کے دوران حفاظتی انتظامات دونوں ملکوں کے سکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہو گا۔

صدر اوباما تین روزہ دورے پر دہلی میں ہوں گے۔ وہ پہلے امریکی صدر ہیں جو 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں مہمان خصوصی ہوں گے لیکن یہ پریڈ امریکی سکیورٹی اہلکاروں کے لیے تشویش پیدا کر رہی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے یوم جمہوریہ کی اپنی پہلی تقریب کو یادگار بنانے کےلیے پریڈ کی ثقافتی فلوٹس کی تعداد 20 سے بڑھا کر 25 کر دی ہے۔ اس سے پریڈ کی مدت دو گھنٹے سے بڑھ کر ڈھائی گھنٹے ہو سکتی ہے۔

امریکہ کے صدر کسی کھلی تقریب میں زیادہ سے زیادہ 45 منٹ گزارتے ہیں۔ ڈھائی گھنٹے تک کسی کھلے مقام پر صدر کا ہونا سکیورٹی اہلکاروں کے لیے حفاظتی نقطۂ نظر سے ایک مشکل مرحلہ ہے۔

ایوانِ صدر اور انڈیا گیٹ کے درمیان یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنایوانِ صدر اور انڈیا گیٹ کے درمیان یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کی جاتی ہے

ایوان صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان واقع وجے چوک پر جہاں بھارت کے صدر پریڈ کی سلامی لیتے ہیں وہاں صدر، وزیر اعظم اور صدر اوباما کے لیے ایک بلٹ پروف شیشے کا سٹیج بنایا جا رہا ہے۔

پریڈ کے دوران انتہائی اہم شخصیات کی حفاظت کے لیے سات تہوں کا سکیورٹی حصار ہو گا۔ امریکی سکیورٹی کے درجنوں اہلکار مقامی پولیس کے ساتھ اس وقت دہلی میں صدر اوباما کے حفاظتی انتظامات کو آخری شکل دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدر کی حفاظت کے لیے امریکہ کے 1500 سکیورٹی اہلکار پریڈ کے دوران دہلی میں تعینات ہوں گے۔

پریڈ کے راستوں کے اطراف کی تمام عمارتوں میں اور ان کی چھتوں پر کمانڈوز تعینات کردیے گئے ہیں۔ بھارت کی بین الاقوامی سرحدوں پر دراندازی روکنے کے لیے اضافی فورسز تعینات کی جا رہی ہیں۔ خفیہ ایجنسیاں اس وقت انتہائی چست اور مستعد ہیں۔

اس موقعے پر سکیورٹی کے ساتھ انتظامات ہوں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناس موقعے پر سکیورٹی کے ساتھ انتظامات ہوں گے

صدر اوباما کے دورے کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں لیکن اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم مودی اور صدر اوباما کی ملاقات پریڈ سے ایک روز قبل 25 جنوری کو ہوگی۔ اس موقعے پر بعض سمجھوتے کیے جانے کی بھی خبر ہے۔

امریکہ نے سنہ 2002 کے گجرات فسادات کے بعد مذہبی تفریق برتنے کے الزام میں مودی کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد دونوں ہی ممالک باہمی تعلقات کو اور زیادہ مستحکم کونا چاہتے ہیں۔

امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور بین اقوامی معاملا ت میں بھی دونوں ممالک اکثر ہم خیال نظر آتے ہیں۔