’کیا جھاڑو کوئی سیاسی طوفان پرپا کر پائے گی‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, سوتک بسواس
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
اگرعوامی رائے عامے کے جائزوں اور سیاسی ہوا پر نظر ڈالی جائے تو کرپشن کے خلاف تحریک کے روح رواں ارویند کیجریوال اپنی جماعت عام آدمی پارٹی کو ریاست میں ہفتے کو ہونے والے کڑے انتخابی معرکے میں جیت سے ہمکنار کرنے والے ہیں۔
تین مختلف عوامی جائزوں میں مجموعی طور پر عام آدمی پارٹی کو 37 نشتوں پر کامیابی حاصل ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے جو کہ سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی مطلوبہ تعداد سے دو سیٹیں زیادہ ہے۔
اگر ان جائزوں پر یقین کیا جائے تو وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی عام آدمی پارٹی سے تقریباً دس نشستیں کم حاصل کرنے والی ہے جب کہ سابق حکمران جماعت کانگریس پارٹی جو شدید سیاسی مشکلات کو شکار ہے اس کو صرف چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
عام آدمی پارٹی کے اہلکار اور انتخابات کے ماہر یوگیندر شرما کا دعوی ہے کہ ان کی جماعت کم از کم 40 سے45 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔
سنہ 2013 کے بعد سے سیاست میں قدم رکھنے والے سادگی پسند سابق بیروکریٹ کیجریوال کی مختصر سیاسی زندگی نشیب و فراز کا شکار رہی ہے۔ ان کے پہلے انتخابات میں ان کی جماعت نے دہلی کی اسمبلی میں 70 میں سے 28 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور جس کی وجہ سے وہ دہلی کے وزیر اعلٰی بھی بن گئے تھے۔
جیسا کہ میں نے اسوقت بھی لکھا تھا کہ کیجریوال نے بھارت کے ووٹروں کو جو ذات پات اور موروثی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں انھیں امید دی۔

،تصویر کا ذریعہbjpdelhi.org
لیکن اپنی وزارتِ اعلیٰ کے پچاس دن مکمل کرنے سے پہلے ہی کیجریوال نے بدعنوانی کے بارے میں ایک مجوزہ قانون پر اختلاف کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔
ایک رہنما جس نے چیزوں کو سدھارنے کا عزم کیا تھا اس نے اپنے ہی ایک وزیر کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے نقادوں جن میں بی جے پی بھی شامل تھی انھیں شوقیہ فنکار، انشتار پسند اور یہاں تک کہ بھگوڑا کہا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد سے ان کی شہرت زوال پذیر رہی۔
اپنی جماعت کے ارکان کی شہ پر کیجریوال نے اپنے اور بی جے پی کے بارے میں غلط اندازے لگائے۔ بھارت میں گزشتہ مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں انھوں نے ملک بھر میں چار سو نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے۔
ان کا دعوی تھا کہ ان کی جماعت کم از کم سو نشستوں پرکامیابی حاصل کرے گی۔ کیجریوال خود بنارس کی سیٹ سے نریندر مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اترے۔
عام انتخابات کے نتائج عام آدمی پارٹی کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔ ان کی جماعت صرف چار نشستیں حاصل کر سکی جب کہ ان کی جماعت کے 96 امیدواروں کی ضمانتیں بھی ضبط ہو گئیں۔
بنارس کی سیٹ پر پارٹی کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ نریندر مودی نے انھیں تین لاکھ ووٹوں کے فرق سے ہرا دیا۔ اخباروں میں چھپنے والی خبروں میں سے ایک کی سرخی تھی ’کس طرح کیجریوال نے عام آدمی جماعت کو تباہ کر دیا۔‘
کیجریوال کی جماعت کا انتخابی نشان جھاڑو تھا۔
نو ماہ کے وقفے کے بعد کیجریوال اپنے نقادوں کو غلط ثابت کرنے والے ہیں۔
پارٹی کارکنوں، پرجوش طلبہ اور سماجی کارکنوں کی ایک فوج کی مدد سے کیجریوال کا متوقع طور پر سیاسی احیا ہو رہا ہے۔
پانی، بجلی، غریبوں کے لیے گھر، عورتوں کے لیے سکیورٹی اور کرپشن کے خلاف کارروائی کے عوامی اور تعمیری نعروں پر مبنی ایک مثبت انتخابی مہم نے ان کی جماعت میں پھر سے جان ڈال دی ہے۔
وزارتِ اعلٰی سے مستعفی ہونے کے اپنے فیصلے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے اس مرتبہ اپنے ووٹروں سے اپنی مدت پوری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
کیجریوال نے ٹائمز آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ: ’لوگوں کو میرے استعفی دینے پرغصہ تھا۔ لیکن وہ ماضی کی بات ہے اور ہم نے اس پر معافی بھی مانگ لی ہے۔ لوگوں نے کہا ہے کہ وہ ہمیں معاف کرنے پر تیار ہیں۔‘
کیجریوال سے ہمدردی رکھنے والے ایک سیاسی مبصر نے کہا کہ وہ اس مرتبہ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور اپنی سیاسی مہم زیادہ سمجھ داری سے چلا رہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ اب ہمارے سامنے ایک نیا کیجریوال ہے جس نے اپنی شکست سے سبق حاصل کیا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار اعجاز اشرف لکھتے ہیں کہ کیجریوال اپنی حدود سے آگاہ ہیں اور وہ اپنی سیاسی بنیادیں دہلی کے ایک رہنما کی حیثیت سے مضبوط کر رہے ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور وہ ووٹر کی رائے کا احترام اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اہمیت سےبخوبی آگاہ ہو گئے ہیں۔
عام انتخابات میں شکست کے باوجود ان کی پارٹی کو پڑنے والے ووٹوں کا تناسب بڑھا ہے۔ وہ دہلی کی ایک وسیع پسماندہ اور غریب آبادی میں بہت مقبول ہیں۔ دہلی شہر کی ایک کروڑ ستر لاکھ آبادی کا ساٹھ فیصد حصہ تیرہ ہزار روپے یا 218 ڈالر ماہانہ سے کم کی آمدنی پر گزارہ کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حکومت کی نچلی سطحوں پر پائی جانے والی کرپشن سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
کیجریوال کے خلاف بی جے پی کی زہر بھری مہم بھی بی جے پی کے حق میں نہیں جا رہی۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہےکہ حکمران جماعت پریشانی کا شکار ہے۔
بی جے پی نے آخری دنوں میں کیجریوال کی پرانی ساتھی کرن بیدی کو ساتھ ملا لیا ہے۔ مکلوں کیسوان جیسے تاریخ دانوں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ کوئی بہتر انتخاب نہیں تھا۔ بی جے پی کے تمام وزیر، ایک سو بیس ارکان پارلیمان اور وزرا اعلی اور نریندر مودی خود بھی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں جو عام انتخابات کے بعد ان کے لیے سب سے دشوار چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔
کیا عام آدمی پارٹی کا انتخابی نشان جھاڑو کوئی نیا سیاسی طوفان کھڑا کر پائے گا اس کا پتہ تو آنے والے منگل کو ہی چلے گا۔







