بھارتی انتخابات: کیجریوال کی جماعت دہلی میں آگے

،تصویر کا ذریعہAP
دہلی کے ریاستی انتخابات میں پولنگ کے اختتام کے بعد ووٹروں سے لیے گئے ایک سروے کے مطابق بدعنوانی مخالف جماعت عام آدمی پارٹی آگے ہے اور انتخابات جیت سکتی ہے۔
اس پارٹی کے سربراہ ایک سابق ٹیکس افسر اروند کیجریوال ہیں۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے وزیرِ اعلیِ کے عہدے کے لیے سابق پولیس افسر کرن بیدی کا انتخاب کیا ہے۔
انتخابات میں 60 فیصد کے لگ بھگ لوگوں نے حصہ لیا۔ سرکاری نتائج منگل کو متوقع ہیں۔ کل ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ ووٹ دینے کے اہل تھے۔
دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجوئے موجمدار کہتے ہیں کہ ان انتخابات کو بھارتی وزیرِ اعظم کا پہلا اصل امتحان قرار دیا جا رہا ہے، جنھوں نے گذشتہ سال عام انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی تھی۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق دہلی میں مقابلہ خاصا سخت ہے لیکن ابتدائی تخمینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کیجریوال بی جے پی سے آگے ہیں۔ کیجریوال نے خاصی پرجوش انتخابی مہم چلائی تھی اور وہ متوسط اور نچلے طبقوں میں خاص طور پر مقبول ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگر حتمی نتائج میں بھی یہی رجحان رہا تو یہ وزیرِ اعظم مودی کے لیے دھچکہ ثابت ہو گا، کیوں کہ گذشتہ سال اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک وہ مقبولیت کی منزلیں طے کرتے رہے ہیں، اس دوران ان کی جماعت نے کئی مقامی انتخابات جیتے ہیں اور وہ بین الاقوامی سرمایہ اور عالمی رہنماؤں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
2014 کے عام انتخابات کی طرح اس بار بھی کانگریس پارٹی کی حالت پتلی دکھائی دیتی ہے۔
دہلی پر پہلے بھی عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی لیکن اس کے وزیرِ اعلیٰ کیجریوال نے گذشتہ فروری میں یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا تھا کہ ان کی انسدادِ بدعنوانی کی کوششوں کو مسدود کیا جا رہا ہے۔
اس وقت سے دہلی بغیر کسی حکومت کے چل رہی ہے، اور اسے وفاقی حکام براہِ راست کنٹرول کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC AP
کرن بیدی اور کیجریوال انسدادِ بدعنوانی کی مہم میں سماجی کارکن انا ہزارے کی قیادت میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں، تاہم اس کے بعد سے ان کی راہیں الگ ہو گئی تھیں اور اب دونوں میں سخت رقابت چل رہی ہے۔
دہلی میں تند و تیز انتخابی مہم کے دوران دونوں امیدواروں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اچھی حکمرانی لے کر آئیں گے، بدعنوانی کا خاتمہ کریں گے اور دہلی کو عورتوں کے لیے محفوظ بنائیں گے۔
گذشتہ انتخابات میں بی جے پی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن اسے اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں تھی اس لیے اس نے دوسرے نمبر پر آنے والی عام آدمی پارٹی کو تیسرے نمبر پر آنے والی کانگریس کے ساتھ مل حکومت بنانے دی تھی۔
تاہم کیجریوال نے صرف 49 دن حکومت کرنے کے بعد 14 فروری 2014 کو استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم انھوں نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران وزارتِ اعلٰی سے مستعفی ہونے کے فیصلے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اس مرتبہ اپنے ووٹروں سے مدت پوری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔







