اروند کیجریوال 14 دن کے لیے تہاڑ جیل میں

،تصویر کا ذریعہAP
دہلی کی ایک عدالت نے عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق صدر نتن گڈکری کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز بیان بازی کے معاملے میں 14 دن کے لیے عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
کیجریوال اب چھ جون تک تہاڑ جیل میں رہیں گے۔
بی بی سی ہندی کے مطابق انھوں نے جمعے کو معاملے کی سماعت کے دوران ایک مرتبہ پھر پٹیالہ ہاؤس عدالت کی طرف سے مقرر کردہ 10 ہزار روپے کا ضمانتی مچلكہ بھر کر رہائی پانے سے ایک بار پھر انکار کر دیا۔
اس سے قبل بدھ کو بھی انھوں نے ضمانت پر رہائی سے انکار کیا تھا اور عدالت نے انہیں جمعہ تک کے لیے عدالتی حراست میں جیل بھیجا تھا۔
ہتک عزت کا یہ معاملہ عام انتخابات کی مہم کا ہے، جب کیجریوال نے ایک نیوز کانفرنس میں 13 لوگوں پر الزام تراشی کی تھی جن میں بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری کا بھی نام شامل تھا۔
اس کے بعد گڈکری سمیت کئی دیگر رہنماؤں نے کیجریوال پر ہتک عزت کا مقدمہ کر دیا تھا۔
جمعے کو سماعت کے دوران جج نے کہا کہ کیجریوال کو سابق وزیراعلی ہونے کے ناطے قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنا چاہیے۔
جج نے کیجریوال کے وکیل سے کہا کہ اگر وہ مطمئن نہیں ہیں، تو اعلیٰ عدالت میں جا سکتے ہیں لیکن اس وقت عدالت کے اپنے سابقہ حکم کو تبدیل کرنا ممکن نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گڈکری کی وکیل پنکی آنند نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے ذاتی طور پر کیجریوال کو پورا قانونی طریقۂ کار سمجھایا لیکن اس کے باوجود انہوں نے ضمانت کے لیے مچلكہ بھرنے سے انکار کر دیا۔
اسی دوران عام آدمی پارٹی کے رہنما گوپال رائے نے کہا ہے جمعے کی شام کو پارٹی کے کارکنوں کےاجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔







