حکومت چھوڑنے پر عوام سے معافی مانگتا ہوں: کیجریوال

کیجریوال کی حکومت صرف 49 روز اقتدار میں رہی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکیجریوال کی حکومت صرف 49 روز اقتدار میں رہی
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت میں عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے دہلی کی حکومت سے اچانک استعفیٰ دینے پر عوام سے معافی مانگی ہے اور اعلان کیا ہے کہ پارٹی اب ریاستی اسمبلی کا الیکشن دوبارہ لڑنے کی تیاری کرے گی۔

اس سے پہلے اروند کیجریوال نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کر کے یہ درخواست کی تھی کہ وہ فی الحال اسمبلی تحلیل نہ کریں کیونکہ پارٹی دوبارہ حکومت بنانے کے امکانات کا جائزہ لینا اور اس سوال پر عوام کی رائے معلوم کرنا چاہتی ہے۔

عام آدمی پارٹی نے کانگریس کی حمایت سے دہلی میں حکومت بنائی تھی لیکن کیجریوال نے صرف 49 دن بعد ہی یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ کانگریس اور بی جے پی نے متحد ہو کر انھیں بدعنوانی کی روک تھام کے لیے قانون سازی نہیں کرنے دی، جس کے بعد وہ اقتدار میں نہیں رہنا چاہتے۔

لیکن ان کے استعفے کا الٹا اثر ہوا اور عام تاثر یہ پیدا ہوا کہ وہ بغیر کسی ٹھوس وجہ بیچ میں ہی حکومت چھوڑ کر ’بھاگ‘ گئے کیونکہ ان کی نگاہیں پارلیمانی انتخابات پر تھیں۔

اروند کیجریوال اور ان کی پارٹی کے کئی دیگر رہنما یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ حکومت اچانک چھوڑنا بڑی غلطی تھی جس کا انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

منگل کو یہ خبر عام ہونے کے بعد کہ مسٹر کیجریوال دوبارہ حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، کانگریس نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ وہ دوبارہ عام پارٹی کی حکومت کی حمایت نہیں کرے گی اور تازہ انتخابات کے لیے تیار ہے۔

اروند کیجریوال 14 فروری کو مستعفی ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت بیچ میں ہی چھوڑنے پر میں دہلی اور ملک کے عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ اور اب ہم الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہیں۔‘

پارلیمان کے الیکشن میں پارٹی نے چار سو سے زیادہ امیدوار کھڑے کیے تھے لیکن صرف پنجاب میں چار کو کامیابی حاصل ہوئی۔ دہلی عام آدمی پارٹی کا مضبوط قلعہ مانا جارہا تھا لیکن یہاں کی ساتوں سیٹیں بی جے پی نے جیتیں۔

لیکن دہلی کے ساتوں حلقوں میں پارٹی دوسرے نمبر پر رہی اور اس کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اب پنجاب اور دہلی میں اس کی اچھی خاصی موجودگی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پارٹی کو چند گنی چنی سیٹوں پر ہی الیکشن لڑنا چاہیے تھا اور یہ کہ نریندر مودی کی شاندار کامیابی کے بعد اب دہلی میں دوبارہ اقتدار حاصل کرنا اس کے لیے آسان نہیں ہوگا۔