وہ سوالات جن کے جواب نریندر مودی نہیں دینا چاہتے

’جاسوسی کے واقعے‘ اور ’گجرات فسادات‘ پر مودی کی مستقل خاموشی کو طاقت کے بجائے ان کی کمزوری کی علامت سمجھا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشن’جاسوسی کے واقعے‘ اور ’گجرات فسادات‘ پر مودی کی مستقل خاموشی کو طاقت کے بجائے ان کی کمزوری کی علامت سمجھا جا رہا ہے
    • مصنف, زبیر احمد
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی

بھارتی سیاست میں اپنے ابتدائی سیاسی دور میں اندرا گاندھی کو خاموشی کے لیے ’گونگی گڑیا‘ کہا گیا۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ تو بولے، اگرچہ بہت زیادہ نہیں، پھر بھی جب وہ بولتے ہیں تو وہ مشکل سے ہی سنائی دیتا ہے۔

لیکن بے جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی روز بولتے ہیں اور سب سے اونچی آواز میں بولتے ہیں جیسے ان کی آواز کسی بھِیڑ کو جگانے والی آواز ہو۔ لیکن پھر بھی ان کی بات سنائی نہیں دیتی۔ کم از کم ان لوگوں کو جن کے ذہن میں ان کے لیے بعض سوالات ہیں۔

میڈیا ان سے سوال کر رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال بھی ان سے چند سوالات کر رہے ہیں۔ سنہ 2002 کے گجرات فسادات کے متاثرین بھی ان سے سوال کر رہے ہیں۔ ان کے ناقدین کے بھی ان سے بعض سوالات ہیں۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان سوالات پر انھوں نے خاموشی کی کوئی دیوار بنا لی ہو۔

جس شخص کو بھارت کے اگلے وزیر اعظم کے طور پر دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اس کے لیے یہ اچھا شگون نہیں ہے۔

نریندر مودی کی خاموشی کی اپنی ایک شکل ہے۔

وہ ’بہتر ڈھنگ سے حکومت چلانے‘ پر بولتے ہیں، ’گجرات ماڈل‘ پر بولتے ہیں۔ وہ خود ’شہزادے‘ (راہل گاندھی) سے بہت سے سوال پوچھتے ہیں۔

بہت سے سوالات ہیں جو لوگ مودی سے کرتے ہیں لیکن ان کوئی جواب نہیں آتا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبہت سے سوالات ہیں جو لوگ مودی سے کرتے ہیں لیکن ان کوئی جواب نہیں آتا

یہ کام وہ ہر جلسے میں کرتے ہیں، ہر روز کرتے ہیں اور دن میں کئی بار کرتے ہیں۔ شاید باربار دہرائی جانے والی باتیں ان ہی کی طرف ہی لوٹ آتی ہیں اور نتیجتاً وہ ان سوالات کو نہیں جھیل پاتے جو ان کی طرف اچھالے جاتے ہیں۔

لیکن مودی کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ان سوالات کو ٹال دیتے ہیں جو ان کے لیے مشکل ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ انھیں صاف طور پر سنتے ہیں لیکن ایسا ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی ایئر پلگ پہن رکھا ہے۔

’جاسوسی کے واقعے‘ اور ’گجرات فسادات‘ پر ان کی مستقل خاموشی کو طاقت کے بجائے ان کی کمزوری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

آئیے بعض ایسے ہی سوالوں پر نظر ڈالتے ہیں جن کے جواب لوگ مودی سے چاہتے ہیں۔

سنہ 2002 کے ہندو مسلم فسادات کے دوران وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ دونوں تھے۔

مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات گھر کر چکی ہے کہ جب ہندو فسادی انھیں نشانہ بنا رہے تھے تو نریندر مودی نے آنکھیں پھیر لی تھیں۔

سپریم کورٹ کی طرف سے قائم تحقیقاتی ٹیم کو فسادات کے دوران ان کی جانب سے فرض میں کوتاہی برتنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

اس بارے میں ان کا ردعمل خاموش رہنے سے لے کر جھنجھلا کر انٹرویو ختم کر دینے تک پھیلا ہوا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے باوجود یہ سوال ان کا پیچھا چھوڑتا نظر نہیں آتا۔

وہ بہتر ڈھنگ سے حکومت چلانے پر بولتے ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنوہ بہتر ڈھنگ سے حکومت چلانے پر بولتے ہیں

دو ماہ قبل نریندر مودی کو ’فیس بک ٹكسٹ لائیو‘ نام کے ایک پروگرام میں شامل ہونا تھا لیکن آخری وقت میں اسے حیرت انگیز طور پرواپس لے لیا گیا کیونکہ انھیں یہ علم ہو چکا تھا کہ کہ ان سے کئی پریشان کن سوالات پوچھے جا سکتے ہیں جن میں گیس قیمتوں کا متنازع مسئلہ بھی شامل تھا۔

اروند کیجریوال نے گیس کی مجوزہ نئی قیمتوں کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ کیجریوال کا الزام ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے صنعت کار مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کو زبردست فائدہ ہوگا۔

جب سے مودی کو بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار قرار دیا گیا ہے تب سے وہ طیارے سے ملک گیر پیمانے پر دورہ کر رہے ہیں۔

وارانسی سیٹ پر ان کے حریف کیجریوال ٹرین اور کار سے سفر کرتے ہیں لیکن مودی اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی اپنی مرضی کے مطابق ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے ہیں۔

کیجریوال نے بی جے پی اور کانگریس کی طرف سے انتخابات پر کیے جانے والے زبردست اخراجات پر سوال اٹھایا ہے لیکن دونوں پارٹیوں نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔

مودی کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ان سوالات کو ٹال دیتے ہیں جو ان کے لیے مشکل ہو سکتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمودی کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ان سوالات کو ٹال دیتے ہیں جو ان کے لیے مشکل ہو سکتے ہیں

گذشتہ سال نومبر میں دو نیوز ویب سائٹوں نے الزام لگایا تھا کہ مودی کے معتمد خاص امت شاہ نے سرکاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے 2009 میں اپنے ’صاحب‘ (مودی) کی ایما پر ایک لڑکی کی غیر قانونی نگرانی کا حکم دیا تھا۔

بی جے پی نے تسلیم کیا ہے کہ نگرانی کی گئی تھی لیکن کہا ہے کہ نگرانی لڑکی کے والد کے کہنے پر کی گئی تھی جبکہ لڑکی کو اس کا علم نہیں تھا۔

مودی سے اس بارے میں وضاحت طلب گئی ہے لیکن نہ تو انھوں نے اس بارے میں ایک بھی لفظ کہا ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ اس غیر قانونی نگرانی کا حکم کیوں دیا گیا تھا۔

چند ہفتے قبل کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت جب مودی نے خاموشی سے یہ ظاہر کیا کہ وہ شادی شدہ ہیں تو سنسنی پھیل گئی تھی۔

اس سے پہلے ہر بار حلف نامہ داخل کرتے وقت انھوں نے ازدواجی حیثیت والے کالم کو خالی چھوڑ دیا تھا اسی لیے اس بات کو سب نے محسوس کیا۔

کیا وہ سچ مچ میں شادی شدہ ہیں؟ کیا وہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو گئے ہیں؟

مودی کے شادی شدہ ہونے کے اعلان کے بعد بی بی سی نے ان کے بھائی سے بات کی تھی اور انھوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ برسوں سے اپنی بھابھی سے نہیں ملے۔ اس اعلان کے بعد مودی کے دعوے تھوڑے عجیب لگتے ہیں کہ وہ اس لیے بد عنوان نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ اکیلے ہیں۔

اروند کیجریوال نے گیس کی مجوزہ نئی قیمتوں کو عدالت میں چیلنج کیا ہے

،تصویر کا ذریعہSANJAY GUPTA

،تصویر کا کیپشناروند کیجریوال نے گیس کی مجوزہ نئی قیمتوں کو عدالت میں چیلنج کیا ہے

مایا كوڈناني کوسنہ 2002 کے فسادات میں ان کے کردار کے لیے 28 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ اس وقت وہ مودی حکومت میں اہم وزیر تھیں۔ سنہ 2009 میں گرفتاری کے بعد انھوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ان پر فسادات میں ملوث ہونے کے الزام کے باوجود مودی نے انھیں اپنی حکومت میں شامل کیا تھا۔ اس بارے میں ان سے مسلسل سوالات پوچھے گئے، لیکن ان کا اب تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

مودی کو خود پر تنقید سے نفرت ہے۔ کم از کم دو گجراتی صحافی بھرت دیسائی اور پرشانت دیال اس کی گواہی دے سکتے ہیں جن پر بغاوت کے الزام لگائے گئے ہیں۔

کسی معروف صحافی کے خلاف یہ بہت سنگین الزامات ہیں۔ مودی اس معاملے پر ابھی تک خاموش ہیں۔

اس کے علاوہ اور بہت سے سوالات ہیں جو لوگ مودی سے پوچھتے ہیں اور وہ جواب نہیں دیتے ہیں۔ بعض اوقات خاموشی بیش بہا ہے لیکن کئی بار خامشی کو اعتراف جرم کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے۔

ایسے میں اپنی خاموشی کو توڑنا مودی کے حق میں ہی ہوگا۔