’مودی کے مخالفین کو پاکستان چلے جانا چاہیے‘

گری راج سنگھ اس سے قبل بھی متنازع بیانات دے چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنگری راج سنگھ اس سے قبل بھی متنازع بیانات دے چکے ہیں

بھارتی ریاست بہار میں بی جے پی کے رہنما گری راج سنگھ کے بیان کی ہر طرف سے مذمت ہو رہی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جو لوگ مودی کے مخالف ہیں انھیں پاکستان چلے جانا چاہیے۔

اس کے بعد انھوں نے پیر کو کہا کہ وہ ’اپنے متنازع بیان پر معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ انھوں نے کوئی غلط بات نہیں کہی ہے۔‘

واضح رہے کہ نہ صرف کانگریس بلکہ بی جے پی کی بعض اتحادی جماعتوں نے بھی گری راج سنگھ کے اس بیان کی سخت مخالفت کی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی اپنی پارٹی کے بعض لیڈروں کو بھی یہ بیان ہضم نہیں ہو رہا ہے۔

بی بی سی کی روپا جھا سے بات چیت میں انھوں نے کہا: ’دنیا کے کئی ملک نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے سے روکنا چاہتے ہیں اور ان میں بھارت کا نمبر ایک دشمن ملک پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان نے نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لیے اپنی پوری قوت لگا رکھی ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سارے مودی مخالف ملک مخالف ہیں تو انھوں نے کہا: ’جمہوریت کی خوبصورتی مخالفت کرنا ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان پرست لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔‘

گری راج سنگھ نے جمعے کو ایک جلسے میں کہا تھا: ’جو لوگ نریندر مودی کو روکنا چاہتے ہیں وہ پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان کے لیے بھارت میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ ان کے لیے صرف پاکستان میں جگہ بچے گی۔‘

اس جلسے میں بی جے پی کے سابق صدر نتن گڈکری بھی موجود تھے۔ سیاسی حلقوں میں گری راج سنگھ کے بیان کی سخت مخالفت ہو رہی ہے۔

بہار بی جے پی کے رہنما سشیل کمار مودی نے اس پر اتوار کو اپنی ٹویٹ میں کہا: ’گری راج کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے، بی جے پی اس سے متفق نہیں ہے۔‘

دوسری جانب کانگریس کے ترجمان محمد افضل نے اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’جو لوگ ووٹ نہیں ڈالیں گے، کیا ان سب کو مودي جي پاکستان بھیجیں گے؟ اگر ایسا ہوا تو 90 فیصد لوگوں کو پاکستان بھیجنا پڑے گا۔‘

جب گری راج سنگھ سے پوچھا گیا کہ ان کی اپنی پارٹی ہی ان کے بیان سے علیحدگی ظاہر کر رہی ہے تو انھوں نے کہا: ’میں نے پارٹی سے نہ حمایت کے لیے کہا ہے اور نہ ہی مخالفت کے لیے۔ میں ملک کا ایک شہری ہوں اور میں نے کوئی غلط بیان نہیں دیا ہے اس لیے میں معافی نہیں مانگوں گا۔‘

دوسری طرف این ڈی اے کی اہم اتحادی شرومنی اکالی دل کے لیڈر نریش گجرال نے کہا ہے: ’مجھے پورا یقین ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔‘

واضح رہے کہ بہار کے دیوگھر ضلعے کے موہن پور تھانے میں ان کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف ایف آئي آر بھی درج کرائی گئي ہے۔