بھارت: 12 ریاستوں میں 121 نشستوں کے لیے پولنگ

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی پارلیمانی انتخابات کے پانچویں اور اہم مرحلے میں بھارت کی 12 ریاستوں کی 121 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
حکمراں جماعت کانگریس اور حزبِ اختلاف کی جماعت بی جے پی چند اہم ریاستوں میں مدِ مقابل ہیں جن میں کرناٹک، راجستھان، اتر پردیش، بہار، مہاراشٹرا اور مغربی بنگال شامل ہیں۔
سیٹوں کی تعداد کے لحاظ سے پانچواں مرحلہ سب سے اہم ہے کیونکہ جمعرات کو لوک سبھا کی سب سے زیادہ 121 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالےگئے۔
اس کے ساتھ ہی اڑیسہ اسمبلی کی 77 اور مغربی بنگال کی دو سیٹوں کے لیے بھی پولنگ ہوئی ہے۔
بھارتی پارلیمان کے لیے جاری انتخابات کے پانچویں مرحلے میں 1769 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اہم امیدواروں کی فہرست میں سابق وزیر اعظم اور جنتا دل سیکولر کے رہنما ایچ ڈی دیوگوڑا، مرکزی وزیر ویرپّا موئلی اور سری کانت جینا جیسے بڑے نام ہیں۔
جمعرات کو ہی بہار کے سابق وزیر اعلی لالو یادو کی بیٹی ميسا بھارتی اور وزیر زراعت شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے کی قسمت کا بھی فیصلہ بھی ای وی ایم میں محفوظ ہو جائے گا۔ پانچویں مرحلے کی پولنگ میں 16.61 کروڑ ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے اہل ہیں۔
پانچویں مرحلے میں لوک سبھا کی جن 121 سیٹوں کے لیے ووٹنگ ہوئی ، ان میں 36 نشستیں کانگریس کے پاس ہیں جبکہ اس کی اہم حریف بی جے پی کے قبضے میں 40 سیٹیں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کرناٹک کی 28، راجستھان کی 20، مہاراشٹر کی 19، اترپردیش کی 11، اڑیسہ کی 11، مدھیہ پردیش کی 10، بہار کی سات، جھارکھنڈ کی چھ اور چھتیس گڑھ کی تین نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہmdmkparty
بھارت میں پولنگ کے عمل کو نو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کا آغاز 7 اپریل کو ہوا اور 12 مئی تک جاری رہے گا۔ 16 مئی کو ووٹوں کی گنتی ہوگی۔
ان انتخابات میں 81 کروڑ سے زیادہ بھارتی شہری ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
111 نشتوں کے لیے پولنگ پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے اور بیشتر ریاستوں میں ووٹر ٹرن آوٹ 2009 کے مقابلے میں زیادہ رہا۔
جمعرات کو جنوبی ریاست کرناٹک ایک انتہائی اہم انتخابی میدان تھا۔ بنگلور ساؤتھ کی نشت پر مقابلہ بہت سخت ہے جہاں کانگریس کے نندن نلکانی، بی جے پی کے آننتھ کمار اور عام آدمی پارٹی کی نینا نائک آمنے سامنے ہیں۔
نلکانی بھارت کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنیوں میں سے ایک انفو سیس کے شریک بانی اور ارب پتی سابقہ سی ای او ہیں جبکہ آننتھ کمار ایک سابقہ وفاقی وزیر ہیں۔
مہاراشترا میں19 نشتوں اور راجستھان کی 20 نشتوں پر بھی جمعرات کو پولنگ ہوئی۔
گذشتہ سال دہلی میں بلدیاتی انتخابات میں غیر متوقع کامیابی حاصل کرنے والی اور بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والی عام آدمی پارٹی نے روایتی پارٹیوں کو ان انتخابات میں چیلنج کر دیا ہے۔
ان کے علاوہ چھوٹی علاقائی پارٹیاں بھی ان انتخابات میں کافی اہم ہیں کیونکہ مرکز میں واضح اکثریت قائم نہ ہونے کی صورت میں یہ جماعتیں حکومتی اتحاد بنانے کے عمل میں ضروری ثابت ہو سکتی ہیں۔
ملک بھر میں سکیورٹی کے لیے ہزاروں پولیس اہلکار اور دیگر حفاظتی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ انتخابی عمل کو پانچ ہفتوں پر انتظامی اور سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے تقسیم کیا گیا ہے۔
ان انتخابات میں بنیادی مقابلہ راہل گاندھی کی سربراہی میں کانگریس اور بندو پرست رہنما نریندر مودی کے درمیان ہے۔







