انتخابات: سیاسی رہنما اور مدرسوں کے چکّر

بھارت میں تقریبا 15 فی صد مسلمان ہیں جبکہ اتر پردیش میں ان کا فی صد 20 سے زیادہ ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں تقریبا 15 فی صد مسلمان ہیں جبکہ اتر پردیش میں ان کا فی صد 20 سے زیادہ ہے
    • مصنف, اتل چندرا
    • عہدہ, سینيئر صحافی، لکھنؤ

بھارتی ریاست اترپردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں واقع دارالعلوم ندوۃ العلماء کا دنیا کے مشہور تعلمی مراکز میں شمار ہوتا ہے مسلمانوں میں قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

شاید اسی لیے بی جے پی کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیاں ندوہ کے وائس چانسلر سے مدد مانگنے جاتے ہیں۔

بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر ستیش چندر مشرا وائس چانسلر مولانا رابع حسنی ندوی سے اسی ارادے سے ملے تاکہ ان کے ذریعے مسلمانوں کا ووٹ حاصل کیا جا سکے۔

ندوے میں 5،000 طالب علم ہیں۔ پہلے تو انڈونیشیا، ملائشیا اور سعودی عرب سے بھی طالب علم یہاں آتے تھے۔

خود کو ندوۃ العلماء کا خادم کہنے والے ہارون رشید کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس برسوں سے غیر ملکی طالب علموں یہاں آنے کے لیے ویزا نہیں دیا جاتا ہے۔

ہارون کہتے ہیں کہ ندوے کے علما سیاسی معاملات سے دور رہتے ہیں۔ آج تک صرف ایک بار ندوے کے کسی بھی وائس چانسلر یا مہتم نے کھل کر کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کی مخالفت کی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ بعض حلقوں میں مسلمانوں کے ووٹ سے نتائج بہت حد تک متاثر ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ بعض حلقوں میں مسلمانوں کے ووٹ سے نتائج بہت حد تک متاثر ہوتے ہیں

سنہ 1992 میں جب بابری مسجد شہید گئی، اس وقت یہاں کے وائس چانسلر مولانا علی میاں نے کانگریس کی کھل کر مخالفت کی تھی۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن ظفریاب جیلانی نے ایک دوسرے واقعے کا ذکر کیا جب مولانا علی میاں نے سیاسی مسئلے میں اپنی رائے دی تھی۔

جیلانی کے مطابق جس وقت ملائم سنگھ یادو نے کلیان سنگھ کے ساتھ مل کر انتخابات میں آئے تھے مسلمان ان سے کافی ناراض تھے۔

لیکن پرسنل لا بورڈ کی ایک میٹنگ کے بعد علی میاں نے باتوں باتوں میں صرف اتنا کہا کہ اس شخص (ملائم سنگھ) کے علاوہ کوئی دوسرا نظر نہیں آتا۔ ان کا اتنا کہنا ہی کافی تھا۔

اسلامی تعلیم کا ایک بڑا مرکز دارالعلوم دیوبند بھی ہے۔ اس کا قیام سنہ 1866 میں سلطنت برطانیہ کے روز افزوں اثرات اور عیسائی مذہب سے لڑنے کے لیے ہوئی تھی۔

ندوے کے اساتذہ کے مقابلے یہاں کے اساتذہ سیاست میں زیادہ دخل رکھتے ہیں۔ لیکن گجرات سے تعلق رکھنے والے مولانا وستانوی کو دیوبند اس لیے چھوڑنا پڑا کیونکہ انھوں نے نریندر مودی کے حق میں بیان دیا تھا۔

بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ لکھنؤ سے امیدوار ہیں اور انھوں نے شیعہ عالم مولانا کلب جواد سے ملاقات کی ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنبی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ لکھنؤ سے امیدوار ہیں اور انھوں نے شیعہ عالم مولانا کلب جواد سے ملاقات کی ہے

حال ہی میں عام آدمی پارٹی کے منیش سیسودیا نے دیوبند کے مولانا خالق سنبھلی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد دیوبند کی طرف سے بیان جاری ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ دیوبند سیاست سے دور رہتا ہے۔

ان کے علاوہ حیدرآباد کا جامعہ نظامیہ بھی مسلمانوں کا ایک قدیدیمی تعلیمی مرکز ہے۔ انتخابات کا موسم آتے ہی ان تمام مراکز میں سیاسی رہنماؤں کی آمد و رفت بڑھ جاتی ہے۔

فی الحال ستیش چندر مشرا کے علاوہ ابھی دیگر کسی پارٹی کے لیڈر نے مولانا رابع سے ملاقات نہیں کی ہے۔

شاید ملائم سنگھ یادو کو وہاں جانے کی ضرورت نہ پڑے کیونکہ ان دنوں ظفریاب جیلانی سماج وادی پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ جیلانی کی رائے سے بھی مسلم دانشوروں میں اہمیت کی حامل ہے ۔ ملائم سنگھ کے وہاں نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ پہلے ہی دیوبند کی حمایت حاصل کر چکے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کو گذشتہ انتخابات میں مسلمانوں کی حمایت حاصل رہی ہے

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنکہا جاتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کو گذشتہ انتخابات میں مسلمانوں کی حمایت حاصل رہی ہے

عام طور یہ کہا جاتا ہے کہ کانگریس کے لیڈروں کو ندوے جانے یا نہ جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ پارٹی اب بھی مکمل طور پر ان کا اعتماد حاصل نہیں کر پائی ہے۔

دوسری جانب یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد سے بی جے پی کے قومی صدر راج ناتھ سنگھ کی ملاقات کے بعد شیعہ مسلمانوں کا ووٹ بی جے پی کو جائے گا۔

لیکن کیا یہ کہنا آسان ہے کہ لکھنؤ کے مسلمان صرف ظفریاب جیلانی اور مولانا کلب جواد کے کہنے کے مطابق ہی اپنا ووٹ دیں گے؟

جیلانی کہتے ہیں کہ اس برادری کا بنیادی مقصد بی جے پی کو روکنا ہے۔ اس کے لیے ووٹنگ سے ایک دن پہلے بھی وہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون بی جے پی کو شکست دے سکتا ہے اور ووٹ اسی کو جائے گا۔

جیلانی کے مطابق لکھنؤ سے کانگریس کی امیدوار ریتا بہوگنا جوشی ’مقابلے میں نہیں ہیں‘، اس لیے سماج وادی پارٹی کے ابھیشیک مشرا کی حمایت کی جا رہی ہے۔

راج ناتھ اور جواد کی ملاقات کو بھی وہ سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ مسلمان کسی بھی صورت میں بی جے پی کو ووٹ نہیں دیں گے۔