کولکتہ ریپ کیس میں تین افراد مجرم قرار

بھارت کے شہر کولکتہ کے پارک سٹریٹ میں 2012 میں گینگ ریپ کیس میں گرفتار تینوں ملزمان کو سیشن کورٹ کی جانب سے مجرم قرار دیا گیا ہے۔
ان کی سزاؤں کا اعلان جمعہ کو ہوگا جبکہ اس کیس کے دو اہم ملزمان اب بھی فرار ہیں۔
اسی سال مارچ میں عصمت دری کی شکار خواتین سوزیٹ جارڈن کی موت ہو گئی تھی۔
<link type="page"><caption> ’ریپ کا شکار ہوئی اور معاشرے کی نفرت کا بھی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2014/09/140915_rape_india_ak" platform="highweb"/></link>
واضح رہے کہ چھ فروری 2012 کو جب سوزیٹ جارڈن پارک سٹریٹ کے ایک نائٹ کلب سے لوٹ رہی تھیں، تو ان ملزمان نے ان کو گھر تک لفٹ دینے کے بہانے گاڑی میں بٹھا لیا تھا۔
پھر ان کے ساتھ چلتی کار میں گینگ ریپ کیا گیا اور بعد میں انہیں گاڑی سے باہر پھینک دیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت میں اگرچہ ریپ ہونے والی خواتین کا نام نہ بتائے جانے کا قانون ہے لیکن سوزیٹ جارڈن نے خود سامنے آکر اپنا نام ظاہر کیا تھا۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’میرا نام سوزیٹ جارڈن ہے۔ مجھے ریپ وکٹم کہہ کر نہ بلائیں ۔۔۔ میں اپنا چہرہ کیوں چھپاؤں؟ چہرہ چھپانے کا کام ریپ کرنے والے کریں۔‘







