زندہ جلا دی جانے والی لڑکی کے والدین کو انصاف کی تلاش

بھارت کے شہر کولکتہ میں جس سولہ سالہ بچی کو ریپ کرنے کے بعد زندہ جلا دیا گیا تھا اس کا خاندان انصاف کے حصول کے لیے بھارتی صدر سے ملا ہے۔
خاندان کے ایک فرد نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ صدر نے پوری مدد کا یقین دلایا ہے۔
یہ غم زدہ خاندان قومی کمیش برائے خواتین کے سربراہ سے بھی ملا ہے اور اُن سے انھوں نے اس واقعہ کی تفتیش کرانے کو کہا ہے۔
اس اندوہناک واقعے اور اس کے بعد پولیس کے رویے پر کولکتہ میں کئی دن تک احتجاج کیا جاتا رہا۔
اس بدقسمتی لڑکی کو اپنے آبائی قصبے مدہیاگرم کے قریب دو مرتبہ جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ پہلی مرتبہ اسے چھبیس اکتوبر کو ریپ کیا گیا اور دوسری مرتبہ اسے اس وقت اسی اذیت سے گزرنا پڑا جب وہ پولیس سٹیشن میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی رپورٹ درج کروا کے واپس آ رہی تھیں۔
ریپ کرنے والے چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ دسمبر کی 23 تاریخ کو انھیں نازک حالت میں ہپستال داخل کرایا گیا۔ لیکن بری طرح جل جانے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہو سکیں اور نئے سال کے موقع پر ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔
اس معاملے کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ لڑکی نے مرنے سے قبل انھیں ایک بیان میں دو افراد کی نشاندھی کی تھی جو مبینہ طور پر انھیں جلانے میں ملوث تھے۔ یہ دو افراد بھی ریپ کرنے والوں کے ساتھی بتائے جاتے ہیں اور انھیں بھی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے لڑکی کے والد نے بی بی سی کو بتایا تھا اب ان کی زندگی کا واحد مقصد اپنی لڑکی کے لیے انصاف حاصل کرنا ہے۔
لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ ان کی بیٹی نے مرنے سے قبل ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو پھانسی کی سزا دلوائیں گی۔
لڑکی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ پولیس اس مقدمے کو دبانا چاہ رہی ہے۔
یاد رہے یہ ایک سال قبل نئی دلی میں بھی ایک لڑکی کا ریپ کرنے کے بعد قتل کر دیا تھا جس کے بعد پورے میں عوامی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔







