بھارت: امریکی سیاح سے جنسی زیادتی، 20 سال قید کی سزا

بھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف احتجاج میں شدت آئی ہے
،تصویر کا کیپشنبھارت میں جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف احتجاج میں شدت آئی ہے

بھارت میں ایک عدالت نے امریکی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے الزام میں تین افراد کو 20 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریاست ہما چل پردیش میں ایک ضلعی جج نے تین نیپالی شہریوں کو جنسی زیادتی کے الزام میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے 20 سال قید کی سزا سنائی۔

جنسی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسر ونود کمار دھاون کے مطابق تینوں افراد کو جون میں جنسی زیادتی کے واقعے کے ایک روز بعد گرفتار کیا گیا تھا اور یہ جنسی زیادتی، چوری اور جرائم کی سازش کے الزامات میں قصوروار ٹھرائے گئے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ ہفتے بھارت کے سیاحتی مقام گوا میں پولیس نے ایک 33 سالہ جرمن خاتون سیاح سے جنسی زیادتی کے الزام میں ایک یوگا ٹیچر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

رواں سال اپریل میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق دہلی میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی سمیت دیگر واقعات کے بعد ملک میں غیر ملکی خاتون سیاحوں کی تعداد میں 35 فیصد کمی آئی ہے۔

خیال رہے کہ 30 سالہ امریکی خاتون سیاح سے جنسی زیادتی کا واقعہ رواں سال جون میں ریاست ہماچل پردیش میں پیش آیا تھا۔

حکام کے مطابق ریاست کے تفریحی مقام مینالی میں ٹرک میں سوار مردوں کے ایک گروپ نے امریکی خاتون کو لفٹ کی پیشکش کی اور بعد میں چار مردوں کا ایک گروپ امریکی خاتون کو ایک ویران مقام پر لے گیا اور وہاں ان سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔

اس واقعے کے بعد خاتون نے مقامی پولیس سٹیشن میں ریپ کی ایف آر درج کرائی تھی۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں گزشتہ سال دسمبر میں ایک چلتی بس میں ریپ کے واقعے اور اس کے نتیجے میں متاثرہ کی موت کے بعد ریپ کے واقعات کی زیادہ سختی سے چھان بین کی جا رہی ہے۔

دہلی میں ریپ کے واقعے کے بعد دارالحکومت سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔

اس کے بعد بھارت نے ریپ کے مجرموں کے لیے ‎سزا میں سختی کی ہے جس میں سزائے موت بھی شامل ہے۔