جسٹس گنگولی کمیشن کی صدارت سے مستعفی

جنسی استحصال کے الزامات کا سامنا کرنے والے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اشوک کمار گنگولی نے مغربی بنگال کے حقوقِ انسانی کمیشن کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جسٹس گنگولی پیر کی شام کولکتہ میں راج بھون پہنچے اور انہوں نے مغربی بنگال کے گورنر ایم کے نارائنن کو اپنا استعفی سونپ دیا۔
گورنر سے ملاقات کے بعد انھوں نے خود تو استعفے کی خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تاہم سابق اٹارنی جنرل سولي سوراب جي نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے اور اسے ’درست فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اچھی بات ہے کہ انہوں نے مجھ سے بات کرنے کے ایک دن بعد استعفیٰ دے دیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس گنگولی نے ایک دن پہلے انہیں فون کر کے کہا تھا کہ وہ مستعفی ہونے پر غور کر رہے ہیں۔
جسٹس گنگولی کے استعفے کا مطالبہ کرنے والی ایڈیشنل سالیسٹر جنرل اندرا جيسہ نے کہا کہ انہیں کافی پہلے ہی استعفی دے دینا چاہیے تھا۔

جسٹس گنگولی کی جانب سے مستعفی ہونے کا فیصلہ مرکزی کابینہ کے اس فیصلے کے بعد آیا ہے جس میں اس معاملے پر سپریم کورٹ کو صدر کی رائے بھیجے جانے کی تجویز کی منظوری دی گئی تھی۔
کابینہ کے اس اقدام کو جسٹس گنگولی کو مغربی بنگال انسانی حقوق کمیشن کی صدارت سے ہٹائے جانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا تھا۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ کی طرف سے قائم تین ججوں کی ایک کمیٹی نے جسٹس گنگولی پر لگے الزامات کی تصدیق کی تھی.
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کمیٹی نے کہا تھا کہ تحریری اور زبانی بیان سے لگتا ہے کہ جسٹس گنگولی نے متاثرہ خاتون کے ساتھ 24 دسمبر 2012 کو دہلی کے لی میریڈين ہوٹل میں غلط طرز عمل اختیار کیا تھا۔
جسٹس گنگولی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ طاقتور لوگ ان کی ساکھ بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ان کے خلاف چند فیصلے دیے تھے۔







